خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 482
خطبات طاہر جلد ۸ 482 خطبہ جمعہ ۴ ار جولائی ۱۹۸۹ء ہیں۔ساری رات کتنا میرا منہ چاہتا رہا ہے اس بدبخت نے شمی تک نہیں کیا، اتنا نکما انسان ہے۔تو جہاں بیر گر رہے ہوں ہاتھ بڑھانے کی بات ہو وہاں ہاتھ بھی نہ آپ بڑھا ئیں اور پھر یہ شکوہ رہے کہ ہم بڑھ نہیں رہے، ہمیں برکت نہیں مل رہی۔آج خدا کے فضل سے ایک بیر نہیں تمام دنیا میں خدا کے رحمتوں کے پھلوں کی بارشیں ہو رہی ہیں۔خدا کی تقدیر خود تیار ہے کہ ان پھلوں کو آپ کے دائیں بھی برسائے ، آپ کے بائیں بھی برسائے ، آپ کے آگے بھی برسائے ، آپ کے پیچھے بھی برسائے صرف آپ میں ہمت کی ضرورت ہے، کوشش کی ضرورت ہے۔افریقہ کے ایک ملک میں جب میں دورے پر گیا تھا تو وہاں ایک احمدی عورت نے ایک سو احمدی بنائے تھے۔اُس کا میں نے ذکر کیا ایک ساتھ کے ملک سے آنے والے دوست سے اُنہوں نے کہا کہ جی اگر ایک عورت سو بناتی ہے تو میں تو مرد ہوں اور مجھے بھی خدا کے فضل سے بڑی محبت ہے دین سے میں وعدہ کرتا ہوں میں پانچ سو بناؤں گا اور اللہ نے اُس کے دل کے جذبے کو ایسا قبول کیا کہ اُسی ملک سے چند مہینے پہلے تار آئی کہ ہمیں فوری طور پر بیعت فارم بھجوائیں ہزار ہا چھپوا کر بھجوائیں کیونکہ ایک دن میں تیرہ ہزار آٹھ سو کچھ بیعتیں ہوئی ہیں۔اور جہاں پانچ سو کا دعوی بڑا عجیب لگتا تھا کہ بہت ہی بڑی ڈینگ ماری گئی ہے کہ پانچ سو بیعتیں میں کرؤں گا وہاں تیرہ ہزار آٹھ سو کچھ یا اس کے قریب کی تعداد تھی کہ وہ بھجوا دیں ہمیں فارم ہماری بیعتیں ہو چکی ہیں صرف فارم نہیں ہیں۔تو جو میں کہتا ہوں کہ اللہ کا فضل ہوائیں چلا رہا ہے اب پھل گرا رہا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔سب دنیا میں نئی صدی میں داخل ہونے کے ساتھ میں ایک عظیم الشان تبدیلی دیکھ رہا ہوں۔رحمت کی ہوائیں چل رہی ہیں ، اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہمارے لئے کام کر رہے ہیں۔ان ہواؤں سے آپ نے فائدہ اُٹھانا ہے۔اس نئے بدلے ہوئے موسم کے پھل آپ نے کھانے ہیں۔کچھ تو کوشش کریں ، دُعا کریں، محنت کریں، اپنے ساتھیوں کو ، اپنے ماحول میں احمدیت کا صاف پیغام پہنچانا شروع کریں لیکن جب تک آپ باخدا نہیں ہوں گے آپ کو یہ پھل نصیب نہیں ہوں گے۔اصل بات وہیں آ کے اصل تان وہیں ٹوٹتی ہے کہ وہ دعا جو اللہ کی محبت میں دل سے نکلے یا وہ بظاہر شیخی کی ڈینگ جو بہت بڑی دکھائی دے مگر خوب خالص اللہ کی محبت کے نتیجے میں اور جذبہ ایمانی کے نتیجے میں اُسے اللہ ضائع نہیں کرتا۔ورنہ آپ لاکھ تقریریں کرتے رہیں لاکھ آپ اپنے علم کے زور سے اور اپنی