خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 461

خطبات طاہر جلد ۸ 461 خطبہ جمعہ ے جولائی ۱۹۸۹ء مسجدیں بنانے کے وقت تقویٰ سب سے پہلی شرط ہے اور تقویٰ کے مطابق خدا کا گھر بناتے وقت یہ خیال کبھی بھی دامن گیر نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اسے زیادہ خوبصورت بناسکیں گے یا کم خوبصورت بناسکیں گے۔زیادہ شاندار دکھائی دینے والی مسجد بنائیں گے یا کم شاندار دکھائی دینے والی مسجد بنائیں گے۔اول نیت اس بات کی ہونی چاہئے کہ ہمیں خدا کے نام پر کسی ایک جگہ عبادت کرنے کے لئے اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے اور وہ جگہ سب کے لئے کھلی ہونی چاہئے۔اس لئے ہمیں جس قسم کی جگہ بھی میسر ہو ہمیں لازماً اپنی کوشش کے ساتھ ایک ایسی جگہ کی تعمیر کرنی چاہئے جو خدا کے نام پر ہو، خدا کی خاطر ہو وہاں عبادت کے لئے سادگی کے ساتھ ہم اکٹھے ہو سکیں۔اس کے علاوہ اگر تزئین بھی ہو سکے ظاہری ، صاف ستھری خوبصورت نظر آنے والی چیز ہو تو یہ خلاف ایمان بات نہیں کیونکہ زینت کا ایک ظاہر سے بھی تعلق ہے۔اگر اندرونی زینت کو آپ پیش نظر رکھتے ہوئے بیرونی زینت کا کچھ سامان کر سکیں تو ہرگز مضائقہ نہیں اور یہ قرآنی تعلیم کے خلاف نہیں ہے لیکن اول شرط یہی ہے کہ تعمیر کے وقت تقویٰ پیش نظر ہونا چاہئے اور خالصتہ اللہ کی عبادت کا مقصد پیش نظر ہونا چاہئے۔یہ بات مجھے بار باراس لئے بتانے کی ضرورت پڑتی ہے کہ آج کل دنیا میں بعض بہت بڑی بڑی مساجد بنائی گئی ہیں اور بنائی جا رہی ہیں اور جماعت کے دوست ان مسجدوں کو دیکھتے ہیں اور بڑے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے دل میں یہ جذ بہ اٹھتا ہے کہ ہمارے پاس دولت ہو ہم اس سے بڑی اور شاندار مساجد بنائیں حالانکہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ مسجدیں، تقویٰ سے خالی ہیں، عبادت کرنے والوں سے خالی ہیں محض ایک دکھاوا ہے ایک عظیم الشان عمارت ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔پس مسجد کی فضلیت آپ کے دلوں کے ساتھ ہے، مسجد کی زینت آپ کے تقویٰ کے ساتھ ہے مسجد کی پہلی اینٹ قرآن کریم کے مطابق تقوی پر رکھی جانی چاہئے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو بار بار جماعت کے سامنے بیان بھی ہونا چاہئے اور جماعت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔اس کے بعد جب تقویٰ پر بنیاد رکھی جائے تو ظاہری زینت سے نہ اسلام منع کرتا ہے نہ حضرت اقدس محمد مصطفی او نے منع فرمایا۔آپ کے اپنے لباس میں بھی یہی عادت تھی کہ سادہ اور مناسب ضروری لباس پہنا کرتے تھے مگر اگر کوئی ظاہری زینت کا لباس بھی دے دیتا تھا تو اسے بھی استعمال فرما لیتے تھے اور قرآن کریم نے واضح تعلیم دی ہے کہ زینت کو اختیار کرنا یعنی ظاہری زینت کو اور نعمتوں کو استعمال کرنا ایمان کے