خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 460
خطبات طاہر جلد ۸ 460 خطبہ جمعہ ے جولائی ۱۹۸۹ء جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف :۳۲) کہ تم لوگ ہر مسجد میں اپنی زمینیں ساتھ لے کر جایا کرو اور یہاں زینت سے مراد تقویٰ ہے۔پس چونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو تمام کائنات میں اگلوں اور پچھلوں سے زیادہ تقویٰ نصیب ہوا پس صحابہ یہ درخواست بالکل قرآنی تعلیم کے مطابق کیا کرتے تھے لیکن کوئی افتتاح کی رسم نہیں منائی گئی۔اس لئے جب بھی مجھے امریکہ ہو یا دوسری جگہوں پر مساجد میں افتتاح کرنے کے لئے کہا جائے تو میرے دل میں ہمیشہ اس طرح سے تر در پیدا ہوتا ہے اور بعض جگہ تو میں نے اس بات پر ناراضگی کا بھی اظہار کیا کہ ایک سال سے آپ اس مسجد میں نمازیں پڑھ رہے ہیں اور آج آپ نے لوگوں کو بلایا ہے یہ کہہ کر کہ مسجد کا افتتاح ہو گا۔آپ مجھ سے بھی دھوکا کر رہے ہیں، دنیا سے بھی دھوکا کر رہے ہیں یہ کوئی انصاف کا طریق نہیں ہے۔مسجد کا افتتاح تو اسی دن ہو گیا جس دن کسی ایک نمازی نے وہاں نماز پڑھ لی۔ہاں ! آپ یہ اعلان کیا کریں، یہ خط لکھا کریں دوستوں کو کہ ہم نے مسجد بنائی بہت خوشی ہوئی۔اس موقع پر شکرانے کے طور پر ہم ایک تقریب منانا چاہتے ہیں جس میں آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ بھی شامل ہوں اور آپ معلوم کریں کے مسجد کیا ہوتی ہے کس لئے بنائی جاتی ہے اور اس موقع پر کیونکہ فلاں شخص بھی آرہا ہے اس لئے آپ کو اس سے ملنے کا بھی موقع مل جائے گا یہ معقولیت ہے، یہ حقیقت ہے۔پس اس مسجد کے متعلق جو تقریب منائی جارہی ہے اس کا بھی یہی پس منظر ہے جس کی وجہ سے میں نے قبول کیا۔مسجد کے افتتاح کے طور پر اگر دعوت نامہ دیا گیا تھا تو وہ درست نہیں تھا لیکن میرے علم میں جہاں تک بات ہے وہ یہی ہے کہ دوستوں کو بلایا گیا ہے کہ چونکہ مسجد تعمیر ہو چکی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمیں توفیق ملی اور یہ عبادت کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔اس موقع پر چونکہ جماعت احمدیہ کا امام بھی آرہا ہے اس لئے ہم خوشی کی ایک تقریب منانا چاہتے ہیں۔پس اگر یہ نہیں بھی ہوا تو آئندہ میں اس خطبے کے ذریعے جماعتوں کو نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ مساجد کی تعمیر کے وقت ان سب باتوں کو ضرور پیش نظر رکھا کریں۔افریقہ کی مثال چونکہ سنت نبوی پر ہے اس لئے وہ مثال میں نے آپ کے سامنے پیش کی اس لئے نہیں کہ افریقہ کی پیروی کریں بلکہ اس لئے کہ افریقہ نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی پیروی کی ہے اور آج کے زمانے میں اس سنت کو زندہ کیا ہے۔