خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 451 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 451

خطبات طاہر جلد ۸ 451 خطبه جمعه ۳۰ / جون ۱۹۸۹ء میں ایک عظیم الشان ملک ہے۔دنیا کی باقی طاقتوں کے مقابل پر ایک بہت ہی وسیع اور خدا تعالیٰ کی طرف سے غیر معمولی معدنی دولتیں پانے والا ملک ہے۔علاوہ ازیں سائنس کے لحاظ سے بھی یہ غیر معمولی ترقی یافتہ ملک ہے۔پس امریکہ کے سائے کی وجہ سے بظاہر آپ کو چھوٹا دکھائی دیتا ہو یعنی اپنے قد و قامت میں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کی قوموں کے لحاظ سے کینیڈا کو ایک بہت عظیم حیثیت حاصل ہے اور اس کے آگے بڑھنے کے بہت ہی وسیع امکانات ہیں۔پس ایسے عظیم ملک کے بڑے بڑے سیاسی راہنماؤں اور حکومت کے اعلیٰ افسروں کا ایک چھوٹی سی جماعت کے متعلق یہ اعتراف کرنا جہاں ان کے اعلیٰ خلق کے اوپر ایک بے لاگ تبصرہ ہے، جہاں ان کے اعلیٰ خلق کو داد تحسین دیتا ہے وہاں اس جماعت کے حسن خلق کے متعلق بھی ایک عظیم شہادت ہے۔کیا وجہ ہے کیوں وہ لوگ اتنا متاثر ہوئے؟ اور کیا وجہ ہے کیوں آپ اپنے ماحول کو ایسے متاثر نہیں کر سکتے ؟ یہ دوسراسوال ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اگر آپ مسجدوں میں اپنی زمینیں لے کے آئیں جو قرآن کریم کی روح سے تقویٰ ہے، اللہ کی محبت ، اللہ کا پیار اور اس خوف میں مبتلا رہنا کہ ہماری کسی حرکت سے خدا ناراض نہ ہو جائے اس کا نام تقویٰ ہے۔عجیب بات ہے کہ دنیا میں اکثر لوگ اس خوف سے تو زندگی گزارتے ہیں کہ کہیں دنیا ہم سے ناراض نہ ہو جائے ، کہیں معاشرہ ہم سے ناراض نہ ہو جائے ، کہیں ہماری کمزوریاں اور بدیاں دوسروں کو نظر نہ آجائیں اور اس کے نتیجے میں لوگوں کا رویہ ہم سے تبدیل نہ ہو جائے تو دنیا کے تقویٰ میں، دنیا کے خوف میں مبتلا ، دنیا کی اکثر آبادی اپنی زندگیاں ضائع کر دیتی ہے اور کچھ بھی ان کو حاصل نہیں ہوتا۔جہاں دنیا نے ناراض ہونے کا فیصلہ کیا وہاں وہ ناراض ہوگی اور کوئی بھی اور طاقت اس کو روک نہیں سکتی۔جہاں منہ سے وہ چند تعریفیں کر لیں وہ تعریفیں بھی آپ کی اندرونی شخصیت کو تبدیل نہیں کر سکتی مگر اللہ کا تقویٰ ایک عظیم الشان طاقت ہے اور اس تقویٰ کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا مقصد یہ ہے، اس کی روح یہ ہے کہ آپ ہمیشہ یہ سوچا کریں کہ ایک ذات ایسی ہے جس سے میں کچھ چھپا نہیں سکتا۔میرا اندرونہ، میرے اندرونے کی پاتال تک اس کی نگاہ ہے۔وہ وہ باتیں بھی میرے متعلق جانتا ہے جو ابھی شعوری طور پر ، کانشس طور پر میرے دماغ کے شعوری حصے پر نہیں ابھریں مگر غیر شعوری حصے میں وہ دبی پڑی ہیں۔کبھی خوابوں کی صورت میں مجھے دکھائی دے دیتی ہیں، کبھی