خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 441
خطبات طاہر جلد ۸ 441 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت سے اپنی ذات کے ثبوت دیتا ہے۔پس وہ لوگ جو سچ مچ خدا کے ہوں خدا کی قدرت کے نشان بن جایا کرتے ہیں ، خدا کی قدرت کے مظہر بن جایا کرتے ہیں اور ہو نہیں سکتا کہ خدا کی محبت ان کی ذات میں اس طرح چھپ جائے کہ دنیا کو دکھائی نہ دے سکے اور یہ فیض میں نے دیکھا ہے کہ افریقہ کے جنگلوں میں بھی لوگوں کو پہنچ رہا ہے اور سب سے بڑا ذریعہ احمدیت کی تبلیغ کا یہی فیض ہے جو خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے قرب کا اور اس قبولیت دعا کا فیض ہے۔بعض دفعہ خدا تعالیٰ عجیب عجیب سامان خود مہیا فرما دیتا ہے۔میں آج بعض دوستوں سے ذکر کر رہا تھا، آج یا کل کی بات ہے کہ افریقہ میں تبلیغ کے معاملے میں سب سے زیادہ مؤثر چیز مقبول دعائیں ہیں۔چنانچہ ایک مثال میں نے ان کو دی۔ایک دفعہ ایک ایسے چیف نے مجھے دعا کے لئے خط لکھا جو پیراماؤنٹ چیف بننا چاہتے تھے اور وہ مسلمان نہیں تھے، احمدی نہیں تھے کوئی بھی تعلق نہیں تھا اُن سے ہمارے، پتا نہیں یا بیگن تھے یا عیسائی تھے یا جو بھی تھے۔انہوں نے کہا میں نے سُنا ہے کہ آپ کی دعائیں قبول ہوتی ہیں لیکن میرا معاملہ یہ ہے کہ میں معمولی چیف ہوں اور پیرا ماؤنٹ چیف بننا چاہتا ہوں جبکہ میرے مقابل پر مجھ سے بہت طاقتور موجود ہیں اور میرا پیراماؤنٹ بنے کا کوئی چانس نہیں ہے۔عقلی لحاظ سے، دنیا کے لحاظ سے اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس کے باوجود میرے دل میں ہے۔یقین ہے کہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ دعا قبول ہوتی ہے یہ سچی بات ہے اور میں احمدی یا مسلمان نہیں ہوں لیکن میرے دل میں یہ بھی یقین ہے کہ آپ سچے لوگ ہیں اس لئے آپ میرے لئے دُعا کریں۔اس کا لکھنے کا انداز ، اس کی سادگی بہت ہی مجھے پیاری لگی۔میرے دل پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ دعاؤں کا چونکہ اثر سے تعلق ہے اس لئے بڑی شدت سے اس کے لئے دعا نکلی اور ایسی کیفیت پیدا ہوئی کہ مجھے یقین تھا کہ یہ دعا ضرور مقبول ہوئی ہے۔چنانچہ میں نے اس کو لکھ دیا حالانکہ مجھے کوئی الہام نہیں، کوئی خواب نہیں ، کوئی اور واضح اشارہ ایسا نہیں تھا مگر دل یقین سے بھر گیا تھا اس لئے میں نے تو کل کرتے ہوئے اس کو لکھ دیا کہ آپ مطمئن رہیں آپ خدا کے فضل سے ضرور پیراماؤنٹ چیف ہوں گے۔وہ خط اس نے سنبھال لیا اور جب الیکشن ہوا تو اس کا نمبر تیسرا تھا۔یعنی پیرا ماؤنٹ چیف تو بنا در کنار جو پیرا ماؤنٹ چیف بن رہا تھا اس کے بعد نمبر دو جو تھا اس سے بھی پیچھے ووٹ تھے لیکن کوئی اس کو حادثہ پیش آیا یا کیا بات ہوئی کہ مجبور ہوگئی حکومت دوبارہ الیکشن کروانے پر اور جو اؤل