خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 38
خطبات طاہر جلد ۸ اس کے بعد پھر وہ کبھی پیچھے نہیں ہے۔38 خطبه جمعه ۲۰ جنوری ۱۹۸۹ء وہ ایک ایسا بے خوف با اصول اور با مرا در اہنما تھا کا میابی جس کے قدم چومتی تھی باوجود اس کے کہ کامیابی کے حصول کے لئے وہ اصول چھوڑ کر جھکنا نہیں جانتا تھا۔کسی ایک موقع پر زندگی میں آپ نے اصول کا سودا نہیں کیا۔چنانچہ اس زمانے میں جبکہ پاکستان کا قیام اتنی اہمیت رکھتا تھا اور خود قائد اعظم نے آخر پر جو بر صغیر کے سیاسی حل کا رستہ تجویز کیا تھا اس کی کامیابی اور نا کامی کا سوال تھا۔بظاہر ایک شخص کی کامیابی اور نا کامی کا بھی نہیں بلکہ ساری قوم کی کامیابی اور نا کامی کا سوال تھا۔ایسے موقع پر ایک سیاستدان جتنے بھی اپنے موافق اور مؤید ا کٹھے کر سکتا ہے وہ سمیٹتا چلا جاتا ہے۔کسی کو کچھ لالچ دیتا ہے، کسی کو کچھ لالچ دیتا ہے۔کسی سے کسی بات کے سودے ہوتے ہیں، کسی سے کسی اور بات کے سودے ہوتے ہیں اور اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لئے یہ بھی کہ دیتا ہے کہ اس موقع پر اتنے بڑے اصول داؤ پر لگے ہوئے ہیں کہ چند چھوٹے چھوٹے اصولوں کی قربانی دے دینا اس کے مقابل پر کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتا۔ایسے موقع پر قائد اعظم کی ایک بہت بڑی آزمائش خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئی اور دراصل اس آزمائش پر ان کا پورا اُترنا ہی ان کی زندگی کو با مراد کرنے کا فیصلہ کر گیا۔تمام ہندوستان میں مسلمانوں کے اندر تمام مذہبی جماعتیں سوائے جماعت احمدیہ کے قائد اعظم اور پاکستان کی مخالف تھیں۔مسلمان حق میں تھے لیکن سب مسلمان حق میں نہیں تھے جہاں تک مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے بحیثیت تنظیم اگر تمام نہیں ہوسکتا ہے میری یادداشت نے کوئی غلطی کی ہولیکن بھاری اکثریت وہ تو عام معروف مذہبی جماعتیں جو آج پاکستان پر قابض ہیں وہ ساری کی ساری قائد اعظم کی مخالف تھیں اور پاکستان کے تصور کے مخالف تھیں لیکن ایک بات پر وہ اپنا مؤقف بدلنے پر آمادہ تھیں اور وہ چھوٹی سی بات یہ تھی کہ قائد اعظم سے انہوں نے درخواست کی کہ اگر آپ مسلمانوں میں سے احمدیوں کو نکال دیں اور ان کی غیر مسلم حیثیت تسلیم کرتے ہوئے ان کو مسلم لیگ سے خارج کر دیں تو ہم اپنا تمام عمر کا سیاسی مؤقف تبدیل کر کے آپ کے پیچھے لگنے کے لئے تیار ہیں۔یہ شرط مان لیں تو باقی ساری باتیں بلا شرط ہم آپ کی تسلیم کر لیں گے۔کتنا عظیم الشان دباؤ تھا۔ساری زندگی کی جنگ کا نتیجہ اس بات پر منحصر تھا اور ایک سیاستدان، ایک دانشور جو ملکی حالات سے باخبر ہو جو فرقوں کے باہمی تناسب کے اعداد و شمار سے واقف ہو اس کے لئے یہ ناممکن ہے کہ ایک