خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 37

خطبات طاہر جلد ۸ 37 خطبه جمعه ۲۰ جنوری ۱۹۸۹ء سیاست میں کوئی دخل نہیں دوں گا۔اس موقع پر حضرت مصلح موعودؓ کی نظر نے دیکھا کہ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے کوئی نجات کی راہ سیاست کے لحاظ سے ہے تو وہ قائد اعظم کے پیچھے چل کر ہی مل سکتی ہے یعنی محمد علی جناح اور محمد علی جناح ہی سے آج ہندوستان کے مسلمانوں کا تمام مفاد وابستہ ہے۔اُس زمانے میں مولانا عبدالرحیم صاحب درد یہاں انگلستان میں امام ہوا کرتے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ان سے فوری رابطہ پیدا کیا اور کہا کہ جس طرح میں آپ کو سمجھاتا ہوں اس طریق پر قائد اعظم سے جاکے، قائد اعظم تو اس وقت غالبا نہیں کہلاتے تھے، محمد علی جناح سے جاکے ملیں اور ان کو بتائیں کہ مسلمانوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔آپ کی کا میابی یا نا کامی اس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ ایک ناکام راہنما کے طور پر مر جائیں لیکن ایک عظیم قوم کی زندگی کی خاطر ایسی قربانیاں کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتیں۔چنانچہ آپ واپس آئیں اور دوبارہ مسلمانوں کی قیادت کو اپنے ہاتھ میں سنبھالیں۔اس وقت قائد اعظم کا رد عمل شروع میں تو بہت سخت تھا جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ با اصول انسان تھے لیکن با اصول انسان جب بات کو سمجھ جاتا ہے تو پھر نرمی بھی اختیار کرتا ہے۔یہ وہ فرق ہے جو مغربی آنکھ نے دیکھا نہیں اور قائد اعظم کو ایک ایسے Rigid انسان کے طور پر، ایسے سخت انسان کے طور پر پیش کیا ہے جو گویا بات سمجھنے کے بعد بھی راہ بدلنے پر آمادہ نہیں ہوا کرتا تھا لیکن اور باتوں کو چھوڑ دیں تو یہ ایک واقعہ ہمیشہ کے لئے اس الزام کو قائد اعظم سے دھونے کے لئے کافی ہے۔اس زمانے میں مسجد لندن کی حیثیت آج کے مقابل پر کچھ بھی نہیں تھی۔چند گنتی کے احمدی تھے اور درد صاحب مرحوم کو قائد اعظم جانتے بھی نہیں تھے۔اچانک ایک امام مسجد کا جو خود ایک غیر معروف انسان ہو ان کے پاس پہنچنا اور یہ درخواست کرنا کہ آپ اپنا فیصلہ بدل دیں اور دوبارہ واپس جائیں ہندوستان کی سیاست میں حصہ لیں اور قوم کی پوری طرح بھر پور نمائندگی کریں۔تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ ہمارے عبدالرحیم صاحب در دمرحوم کو قائد اعظم کے ساتھ بحث تمحیص میں گزرا، ان کو سمجھانے کی کوشش کی بالآخر جب قائد اعظم نے سمجھ لیا کہ ہاں واقعہ ان کا مؤقف درست ہے اور میرے لئے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ جو کچھ بھی ہو مجھے بہر حال ہندوستان واپس پہنچ کر مسلمانوں کی خدمت کرنی چاہئے تو انہوں نے اسی وقت یہ فیصلہ کر لیا اور آپ کے تاریخ دان اس بات کو مستند کتابوں میں لکھ چکے ہیں۔قائد اعظم نے خود اس بات کا اقرار کیا کہ ایسے زندگی کے اہم موڑ پر مجھے سیدھی راہ دکھانے والا لنڈن مسجد کا امام تھا جہاں اس وقت میں آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں۔