خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 412
خطبات طاہر جلد ۸ 412 خطبہ جمعہ ۶ ارجون ۱۹۸۹ء پھر بھی بقاء نہیں پاسکتا، اس کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی جب تک اس پانی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت اس میں نہ ہو اور اپنے جزو بدن بنانے کی صلاحیت نہ ہو۔یہ مثال صرف پانی پر ہی اطلاق نہیں پاتی بلکہ ٹھوس چیزوں پر بھی اطلاق پاتی ہے اس لئے اس کا Osmotic Pressure سے اس طرح تعلق نہیں کہ گویا کلیہ اس قانون کے تابع کام کر رہی ہے اس لئے دراصل مجھے یہ کہنا چاہئے تھا کہ اب میں ایک اور مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ کو سمجھانے کی خاطر کہ آپ نے یہاں کیا کرنا ہے؟ وہ مثال یوں لے لیجئے کہ زندگی جس قسم کی بھی ہو وہ اپنی ذات میں قائم نہیں رہ سکتی اس کی بقاء کے لئے ضروری ہے کہ وہ ماحول سے کچھ قو تیں جذب کرتی رہے۔آپ لوگ جو یہاں آئے ہیں یا امریکہ، یورپ کے دوسرے ملکوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں آپ کے لئے ناممکن ہے کہ ماحول سے زندگی کی قوتیں حاصل کئے بغیر یہاں اپنے وجود کو قائم رکھ سکیں لیکن اگر نظام حیات کا آپ مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے یہ قانون ایسا بنارکھا ہے کہ جو چیز بھی جسم میں داخل ہوتی ہے وہ ایک نظام ہضم میں سے گزر کر داخل ہوتی ہے۔نظام ہضم بعض چیزوں کو رڈ کر دیتا ہے بعض چیزوں کو قبول کر لیتا ہے اور جن چیزوں کو قبول کرتا ہے اُن کو پہلے اپنے جسم کا حصہ بناتا ہے پھر وہ باقی اجزاء تک اس کا اثر پہنچنے دیتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو کھانے پینے کے ذریعے ہی زندگی ہلاک ہو جائے۔اب آپ مثلاً جو کھانا روزانہ کھاتے ہیں ابھی بھی جمعے کو آئے ہیں تو بعض لوگ کھانا کھا کے آئے ہوں گے۔وہ کھانا اگر براہ راست خون میں داخل کیا جائے تو بلا استثناء سارے آدمی مر جائیں حالانکہ وہ قوت ہے، حالانکہ توانائی کا سر چشمہ ہے لیکن آپ شور با براہ راست بلڈ میں Transfusion کر دیں یا گوشت کے ٹکڑے یا سبزی کے ٹکڑے خون کی رگوں میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔وہ اگر بلاک کر کے نہ بھی ماریں تب بھی لازمأموت کا پیغام لے کے آئیں گے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے بہت ہی باریک نظام بنایا ہے کہ جو چیزیں صحت کے لئے قابل قبول بھی ہیں وہ بھی براہ راست جسم کا حصہ نہیں بنا کرتیں بلکہ ایک نظام میں سے گزر کر ایک تربیت پاتی ہیں اور تربیت پانے کے بعد پھر وہ اس نظام کے اندر جذب ہونے کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں پھر ان کو اجازت ملتی ہے کہ وہ جسم کا حصہ بنیں۔اس کے لئے بڑے کارخانے بنے ہوئے ہیں اندر، بڑی خاموشی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ہڈیوں کا گودا ہے وہ اس میں کام کر رہا ہے، انتڑیاں تو بہر حال