خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 384 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 384

خطبات طاہر جلد ۸ 384 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء اخبارات میں اس کا اظہار کیا لیکن ساتھ شرطیں ایسی لگائیں جن کے نتیجے میں ان کے لئے فرار کی راہ کھلی تھی اور یہ کہنے کا موقع باقی تھا کہ ہم نے تو یہ کہا تھا کہ فلاں جگہ پہنچو تو مباہلہ ہوگا اور فلاں جگہ پہنچو تو نہیں ہوگا۔اُن مباہلوں کو میں مباہلوں میں شمار نہیں کرتا لیکن اس کے علاوہ جن لوگوں نے مثلاً انگلستان کے بعض علماء نے مشارکت زمانی کہہ کر یعنی یہ کہہ کر کہ اگر چہ ایک جگہ ہم اکٹھے نہیں ہو سکتے لیکن زمانے میں مشترک ہو سکتے ہیں اس لئے فلاں تاریخ کو آپ بھی دعائیں کریں، ہم بھی دعائیں کرتے ہیں اور ہمارے نزدیک یہ مباہلہ ہو جائے گا۔تو اس کو میں مباہلہ تسلیم کرتا ہوں ان معنوں میں کہ دونوں طرف سے برابر کا مباہلہ ہے اور دونوں کی طرف سے خوب وضاحت کے بعد اس ذمہ داری کو قبول کر لیا گیا ہے۔اسی طرح ہندوستان میں ابھی چند دن پہلے ایک مباہلہ میری اجازت سے ہوا اور وہ بھی چونکہ اس سال کے اندر ہوا اس لئے اسے بھی بطور مباہلہ کے ہم تسلیم کر چکے ہیں اور بعد کے آنے والے حالات کا انشاء اللہ تعالیٰ جائزہ لیں گے۔اس دوران بعض انفرادی واقعات بھی ہوئے ہیں جن کا جماعت کی طرف سے اجتماعی مباہلے سے تعلق نہیں تھا لیکن اس مباہلے کے سائے میں اس سے جرات اور حوصلہ پا کر بعض احمد یوں نے انفرادی طور پر بعض دوسرے غیر احمدی مخالفین کو انفرادی طور پر چیلنج دیا اور وہ انہوں نے قبول کیا۔اس کی تاریخ بھی ہم باقاعدہ منضبط کر رہے ہیں، محفوظ کر رہے ہیں اور بہت سے ایسے نشانات ظاہر ہو چکے ہیں جو حیرت انگیز ہیں، کچھ اور انشاء اللہ ہوں گے پھر اس بارے میں بھی میں علیحدہ بعد ازاں کسی وقت جماعت کو مطلع کروں گا۔آج جو گفتگو کر رہا ہوں اس کا اس سال کے عمومی حالات سے تعلق ہے اور مباہلے کی دعا سے تعلق ہے۔مباہلے کی دعا میں میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس عرصے میں کوئی احمدی نہیں مرے گا اور سارے دشمنان احمدیت مر جائیں گے۔ایسی لغو بات میں کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہ خدا کی تقدیر میں دخل دینے والی بات ہے اور مباہلے کے مضمون کو حد سے آگے بڑھانے والی بات ہے۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی دشمن کی موت کی معین خبر دے۔مباہلے کو معین کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔اس لئے جیسے کہ میں آپ کے سامنے اب عبارت پڑھ کے سناؤں گا آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جو دعا میں نے تجویز کی تھی اور جس کو لحوظ رکھ کر دشمنوں نے