خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 348
خطبات طاہر جلد ۸ 348 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء پس یہاں بھی مفسرین عموماً ایک ایسی روایت کو قبول کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے غلام ، انصار اور مہاجر سب اکٹھے بیٹھے ہوئے بڑی محبت سے ایک دوسرے سے پیار کی باتیں کر رہے تھے، ایمان کے تذکرے ہو رہے تھے ، خدا کا ذکر چل رہا تھا کہ ایک یہودی وہاں پہنچا اور اس کو شدید تکلیف ہوئی۔چنانچہ اس نے زمانہ جاہلیت کے وہ اشعار پڑھنے شروع کر دئیے جن کے نتیجے میں اوس اور خزرج قبائل کی پرانی دشمنیاں بیدار ہو گئیں اور وہ ایک دوسرے سے لڑنے مرنے پر تیار ہو گئے۔یعنی ایسا نازک ایمان تھا ان کا ، ایسی عارضی محبت تھی نعوذ باللہ من ذالك کہ وہ خدا کے ذکر میں مگن اور مدہوش اور خدا کے پیار کی باتیں کرنے والے اور حضرت اقدس محمد مصطفی امی ﷺ کے عہد بیعت میں ایک جان ہوئے بیٹھے تھے کہ اچانک ایک شریر نے پرانے زمانے کے اشعار پڑھ کے ان کی دشمنیاں بھڑ کا دیں۔ایسی فرضی، بیہودہ، بے سروپا روایات نے اسلام کی تاریخ کو داغ داغ کیا ہوا ہے اور کم فہمی کی وجہ سے باوجود نیکی کے ، سادگی کی وجہ سے کہنا چاہئے بعض مؤرخین نے ، بعض مفسرین نے آنکھیں بند کر کے یہ روایت قبول کر لی اور دشمن کو نا واجب حملوں کا موقع دیا۔پس یہاں یہ مراد نہیں نہ اس آیت سے یہ منطوق دکھائی دیتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی میں اس نعمت کے ہوتے ہوئے شدید اختلاف پیدا ہو جائیں بلکہ فرمایا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ یہ محمد مصطفی علی وہ نعمت کا ملہ ہیں ایک وقت آئے گا کہ تمہیں ان کو یاد کرنا ہوگا اور وہ دن یاد کرنے ہوں گے جب خدا نے یہ نعمت تم پر نازل فرمائی اور ان کے طفیل تمہاری دشمنیوں کو محبتوں میں تبدیل کر دیا اور تمہیں ایک جان کر دیا اور ایک رسی میں تم باندھ دیئے گئے ، ایک لڑی میں تم پروئے گئے۔یہ وہ حالات ہیں ان کو یاد کرتے ہوئے جب خدا کے فضل کے ساتھ تم بھائی بھائی بن گئے ، یہ بھی یاد کرو کہ حضرت رسول اکرم علی ہے اس وقت تشریف لائے جب كُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا تم گویا آگ کے کنارے پر کھڑے تھے۔اس وقت آنحضور ﷺ نے اللہ کے فضل کے ساتھ تمہیں اس کنارے سے کھینچ لیا۔كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمُ ايْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اسی طرح خدا تعالیٰ تم پر اپنے نشانات کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تا کہ تم ہدایت پا جاؤ۔صلى الله