خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 335

خطبات طاہر جلد ۸ 335 خطبه جمعه ۹ ارمئی ۱۹۸۹ء عزت اور غیرت کا سوال اس سے بڑھ کر ہے۔پھر کیوں تم ان لوگوں پر حملہ نہیں کرتے ، کیوں ان پر ٹوٹ نہیں پڑتے ، کیوں ان کو جشن منانے دیتے ہو؟ ہر سال ہندوستان میں میلے لگتے ہیں اپنے بتوں کے نام پر کبھی کسی دیوی کے نام پر کبھی کسی دیوی کے نام پر اور دیوالیاں منائی جاتی ہیں۔مسلمان علماء کو چاہئے کہ چڑھ دوڑیں ہندوستان کے اوپر اور کہیں کہ تم ڈاکے کے جشن منارہے ہو، تم نے ہمارے خدا کی خدائی پر ڈاکے ڈالے ہوئے ہیں۔ہم ہر گز تمہیں یہ جشن نہیں منانے دیں گے۔اس وقت ان کی غیرت کہاں چلی جاتی ہے؟ جھوٹ بولتے ہیں۔الف سے کی تک ان کے دعوے جھوٹے ، ان کے اعمال جھوٹے ، ان کی غیر تیں جھوٹی محض فساد کی نیت ہے اس کے سوا ان کی کوئی نیت نہیں۔ایک طرف تو اس قسم کے حملے جماعت پر ہورہے ہیں اور دوسری طرف بین الاقوامی سازشیں جماعت کی طرف ہر طرف سے سراٹھا رہی ہیں۔کچھ ایسی سازشیں ہیں جن کا آپ کو علم ہے یعنی میں نے باتیں پہلے بھی کی ہوئی ہیں۔کچھ ایسی ہیں جن کا آپ کو ابھی پورا علم نہیں لیکن جماعت ان کی نگرانی کر رہی ہے اور جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بیان کیا تھا امر واقعہ یہ ہے زمین کے کسی دور کے ملک میں بھی اگر کسی سوکھے ہوئے پتے کے نیچے بھی مخالفت کا کوئی کیڑا سرکتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسا انتظام فرما دیتا ہے کہ اس کی آواز مجھ تک پہنچتی ہے اور اس کے خلاف دفاعی کارروائیوں کے لئے میں مستعد ہو جاتا ہوں اور ساری جماعت میرے ساتھ مستعد ہو جاتی ہے اس لئے ہم غافل نہیں ہیں۔ہم عالم الغیب والشہادہ کے غلام ہیں اور اسی کے علم اور اس کے غیب اور شہادت کے علم کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ہمیں بھی بصیرت عطا فرماتا ہے اس لئے جماعت ہر طرف سے مستعد اور ہوشیار ہے اور میں جماعت کو مزید مستعد اور ہوشیار کرنا چاہتا ہوں۔ان سازشوں کا ایک نیا شاخسانہ بہائیت کا جماعت احمدیہ پر حملہ ہے۔جماعت احمدیہ کو دنیا کی نظر میں ذلیل کرنے کے لئے اور یہ دکھانے کے لئے کہ بہائیت بھی ان سے آدمی نوچ سکتی ہے۔پاکستان میں ایک ایسی سازش کی گئی جس کی جڑیں دراصل غیر ملکوں میں ہیں اور اس سازش کا اصل شکار مسلمان عامتہ الناس ہیں اور ان کو پتا نہیں کہ کیا ہو رہا ہے ان کے ساتھ۔جب سے امریکہ کا غلبہ ہوا ہے پاکستان پر ہر قسم کے جاسوسی کے اڈے وہاں قائم ہوئے ہیں اور ان میں ایک بہائیت بھی ہے اور وہ بہائیت جو پہلے سر ٹیک کر خاموشی سے با مشکل اپنی زندگی کے دن کاٹ رہی تھی اب اپنی حدود