خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 291

خطبات طاہر جلد ۸ 291 خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۸۹ء آتا ہے یا آپ کی روز مرہ کی زندگی میں سلاست اور صفائی اور پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔میں نے کہا آج کی دنیا سائنس کی دنیا ہے اور یہاں سپیشلائزیشن (Specialisation) کے دور ہیں اور اس قدر زور ہے سپیشلائزیشن کا کہ اس بارے میں لطیفے بھی گھڑ لئے گئے ہیں۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ایک خص نے کسی کا کسی سے ڈاکٹر کے طور پر تعارف کروایا۔اس نے کہا ڈاکٹر ٹھیک ہے لیکن کیسا ڈاکٹر ؟ Drinity کا یا سائنس کا ؟ اگر سائنس کا ہے تو کیمسٹری کا یا فرکس کا یا کسی فلاسفی کا یا علمی الا بدان سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر ، شفاء سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر، ڈاکٹر کیا مطلب، بتاؤ تو سہی؟ اس نے کہا نہیں علم الا بدان یعنی شفاء سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر۔اس نے پھر پوچھا یہ بھی تو بڑا وسیع مضمون ہے۔وہ فزیشن ہے یا سرجن ہے، جراح ہے یا عام طبیب ہے؟ وہ بھی تو پتا ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا یہ جراح ہیں۔اس نے کہا جراحی کا مضمون بھی تو بہت وسیع ہے۔جسم کے کس حصے سے تعلق رکھنے والے جراح ہیں؟ اس نے کہا آنکھ ، ناک اور کان۔اس نے کہا آنکھ ناک اور کان وہ تو پرانے زمانے کی باتیں ہوئیں۔اب تو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ آنکھ سے تعلق ہے ان کا یا ناک سے یا کان سے۔اس نے جواب میں کہا کہ ناک سے تعلق ہے۔تو پھر اس نے پوچھا کہ کس نتھنے سے؟ اگر ناک سے تعلق ہے تو نتھنے کی بھی سپیشلائزیشن ہو گی۔یہ وہ بظاہر ایک لطیفہ ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جس جدید ترین رجحانات سپیشلائزیشن کی طرف ہیں اور جتنا زیادہ انسان عقل اور فکر اور تد بر آگے بڑھتا ہے اتنا ہی وہ سپیشلائزیشن کی طرف مائل ہوتا چلا جاتا ہے۔اسلام وہ مذہب ہے اور وہ شاندار مذہب ہے اور تمام مذاہب میں ایک ہے جس نے انسان کو سپیشلائزیشن سکھائی اور اسی میں مسلمان کا مسلمان ہونا دکھائی دیتا ہے۔یعنی مسلم ہے اس سے آپ کو امن ہے اس سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں۔میں نے کہا جب میں آپ سے دائیں ہاتھ سے مصافحہ کرتا ہوں چونکہ میرے آقا محمد مصطفی عملے نے مجھے بتایا ہے کہ دائیں ہاتھ سے کوئی گندی چیز نہیں پکڑنی۔اس لئے میں آپ کے لئے ایک امین کے طور پر آپ کو مجھ سے کوئی خوف نہیں ہے۔آپ بے تکلفی سے ہاتھ بڑھا کر میرے دائیں ہاتھ کو تھام سکتے ہیں جانتے ہوئے کہ محمد مصطفیٰ" کا غلام ہے لازما یہ ہاتھ صاف ہو گا لیکن آپ نے نہ دائیں کی تمیز سکھی نہ بائیں کی تمیز سیکھی۔ہوسکتا ہے آپ دائیں ہاتھ سے طہارت کر کے آئے ہوں، دائیں ہاتھ سے ناک صاف کیا ہو، دائیں ہاتھ سے کوئی گند اٹھایا ہو، کسی کتے کے منہ میں ڈالا ہو۔مجھے تو آپ سے کوئی امن نہیں