خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 290 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 290

خطبات طاہر جلد ۸ 290 خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۸۹ء معنوں میں آپ سے خوف کھا سکتی ہے ، آپ کی عظمتوں سے خوف کھا سکتی ہے،اس بات سے خوف کھا سکتی ہے کہ ان دو قوتوں کے ساتھ جو آپ کے وجود میں شامل ہو چکی ہیں آپ نے لازماً غالب آنا ہے کیونکہ سچائی اور امانت کو کبھی شکست نہیں ہوا کرتی۔اس پہلو سے آپ پر لازم ہے کہ ان دو صفات کو پکڑ کر بیٹھ جائیں تب آپ سچے معنوں میں مسلم بن جائیں گے۔پھر ساری دنیا شور مچاتی چلی جائے کہ آپ غیر مسلم ہیں، غیر مسلم ہیں، غیر مسلم ہیں خدا کے فرشتے ان آوازوں کو لعنت کے ساتھ رد کرتے چلے جائیں گے کیونکہ محمد مصطفی ﷺ کی رسالت کی دو بنیادی صفات جن لوگوں میں ہوں ان کو تمام دنیا کا شور و غوغا بھی غیر مسلم نہیں بنا سکتا۔مسلم وہ ہے جس کے وجود سے امن وابستہ ہے سلامتی وابستہ ہے اور اپنے کام اور اپنوں کی سلامتی بھی وابستہ ہے اور غیروں کا امن اور غیروں کی سلامتی بھی وابستہ ہے۔چند دن ہوئے سلمان رشدی کے غلیظ ناول کے سلسلے میں ایک ڈنمارک سے آنے والے صحافی نے میرا انٹرویو لیا۔ضمناً بہت لمبا انٹرویو تھا آج انہی کے ساتھی آئے ہیں اور وہ تصویریں کھینچ رہے ہیں۔اس ضمن میں اسلام کی امانت کی بات بھی آئی اور اسلام کی سلامتی کی بات بھی آئی۔میں نے اس سے کہا کہ یہ ایسا جاہل انسان ہے اور مغرب کی لاعلمی اور جہالت سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔یہ کہہ کر کہ اسلام میں پابندیاں بہت ہیں۔اسلام یہ بھی بتاتا ہے کہ دائیں ہاتھ سے یہ کرو اور بائیں ہاتھ سے وہ کرو اور یہ تفریق کرتا ہے اور ایسی ایسی بار یک باتوں میں دخل دیتا ہے کہ کسی انسان کے لئے زندگی اجیرن ہو جائے ، یہ کیا مذہب ہے یہ تو مصیبت ہے۔یہ تاثر آزاد منش مغرب کے ذہن پر جب نقش ہوتا ہے تو اسلام کو قبول کرنے کی راہ میں شدید تر ڈر پیدا ہو جاتا ہے۔کیونکہ یہ لوگ فرضی آزادیوں کے قائل ہو چکے ہیں، اخلاقی آزادیوں کے قائل ہو چکے ہیں جسے عام اردو محاورے میں کہتے ہیں مادر پدر آزاد شخص۔تو اب نئی نسلوں میں خصوصاً مغرب میں مادر پدر آزادی کا ایک تصور قائم ہو رہا ہے کیونکہ اسلام سے متنفر کرنے کے لئے ایک یہ بھی طریق ہے کہ کہا جائے کہ اسلام تو آپ کی۔ނ روز مرہ کی آزادی میں دخل دیتا ہے۔آپ کوئی حرکت نہیں کر سکتے جب تک پہلے محمد مصطفی عملی پہلے پوچھ نہ لیں کہ یہ حرکت کیسے کرنی چاہئے؟ چنانچہ دائیں اور بائیں کا فرق ، یہ چیزیں بھی اس نے تمسخر کے ساتھ بیان کی ہیں۔میں نے کہا میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ان کا فلسفہ کیا ہے تب آپ سمجھیں اور غور کریں تب آپ کو پتا چلے گا کہ کیسے مسلم بنتا ہے اور اس کے نتیجے میں آیا آپ کی آزادی پر حرف