خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 280
خطبات طاہر جلد ۸ 280 خطبه جمعه ۲۸ راپریل ۱۹۸۹ء ہے کہ ان کی آنکھوں میں بے یقینی باقی رہی ہے کیونکہ یہ دانشور لوگ ہیں یہ جانتے ہیں کہ اس چھوٹی سی جماعت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ٹھیک ہے ایک سو بیس ممالک میں پھیل گئی مگر کہاں تک پھیلی ، کتنا نفوذ کیا؟ ایک بھی تو ایسا ملک نہیں جہاں ان کو واقعی غلبہ اور قوت نصیب ہوگئی ہو اس لئے وہ اپنے اندازے لگاتے ہیں ، اربع لگاتے ہیں اور کہتے ہیں ہاں نیک ارادے ہیں آگے بڑھو لیکن یہ دنیا تمہارے اختیار کی دنیا نہیں، تمہاری طاقت سے باہر نکل چکی ہے۔جس رفتار سے تم اس دنیا کو تو حید کی طرف لاؤ گے اس سے سینکڑوں گنا زیادہ رفتار سے یہ دنیا غیر موحد اور مشرک اور بے دین بچے پیدا کر رہی ہوگی۔اس لئے عقل کے ناخن لو تم کیسے ایسے بڑے دعوے کرتے ہو؟ اگر دنیا کے کمپیوٹرز میں ان دلائل کو ڈالا جائے تو کوئی شبہ نہیں آج دنیا ہمیں دیوانہ اور ان تو حید کے غلبے کے انکار کرنے والوں کو فرزانہ قرار دے گی لیکن ایک اور کمپیوٹر ہے اور وہ مذاہب کا کمپیوٹر ہے، مذاہب کی تاریخ کا کمپیوٹر ہے، وہ تقدیر الہی کا کمپیوٹر ہے۔اس میں اگر آپ یہی واقعات ڈالیں اور یہی مواز نے کریں تو ہمیشہ یہ جواب آئے گا کہ یہ دیوانے، یہ کمزور جن کو دنیا بجھتی ہے کہ آج نہیں تو کل مٹا دیے جائیں گے انہوں نے ضرور غالب آتا ہے اور یہ بلند بانگ دعاوی جو تمہیں دکھائی دیتے ہیں یہ ضرور سچے نکلیں گے۔اس لئے کہ تو حید کا مضمون ہی ایسا ہے۔غالب نے کہا ہے کہ عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا (دیوان غالب صفحه : ۹۶) اس نے تو اور رنگ میں کہا ہے مگر میں اس کو ہمیشہ توحید کے مضمون پر اطلاق پا کر کے اس کی لذت حاصل کرتا ہوں۔ہم ایک قطرہ ہیں ہمارے مقابل پر سمندر ہیں۔ہماری عشرت یہ نہیں ہے کہ ان شور سمندروں میں غائب ہو جائیں اور ان کے ساتھ یکجہتی اختیار کر کے ان کی عظمتوں کو اپنی عظمت سمجھنے لگیں۔یہی پیغام ہے جو آج پاکستان ہمیں دے رہا ہے۔یہی پیغام ہے جو آج بعض دوسرے عرب ممالک اور دیگر مسلمان ممالک خواہ عرب ہوں یا غیر عرب ہوں ہمیں دے رہے ہیں اور وہ یہی کہتے ہیں کہ آؤ ہم تمہیں عشرت قطرہ بتاتے ہیں۔تم ہمارے مقابل پر ایک قطرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے اور قطرے کی لذت یہ ہو جایا کرتی ہے کہ وہ سمندر میں غرق ہو جائے اور اپنے وجود کو ، اپنی