خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 276

خطبات طاہر جلد ۸ 276 خطبه جمعه ۲۸ اپریل ۱۹۸۹ء بدیاں ترک کی جاتی ہیں ان کی لذتیں اس سے بہت زیادہ عظیم الشان ہوا کرتی ہیں۔وہ عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ لذتیں کیا ہیں؟ اس لئے اس ارادے اور اس واضح احساس اور شعور کے بغیر تو ہر انسان کوئی نہ کوئی بدی چھوڑتا ہی ہے۔میں کہتا ہوں کہ توحید کے مضمون کو سمجھ کر اس کے ساتھ وابستہ کر کے اپنی بدیاں چھوڑنے کا پروگرام بنائیں اور اللہ کی طرف ہجرت اختیار کریں۔یہ ہجرت اگر آپ اختیار کریں اور میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت میں ہزاروں لاکھوں ایسے ہوں گے جو ہمیشہ اس ہجرت کی طرف کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن اگر اس کی رفتار کو تیز کر دیں، اگر بالا رادہ اپنا محاسبہ شروع کریں اور بتوں کی نشاندہی کریں اور پھر ان بتوں کو توڑیں اور ابراہیمی صفات کو اپنے اندر جاری کریں۔پھر قرآن کریم کو پڑھیں اور دیکھیں کہ قرآن کریم جب ابراہیم کی بت شکنی کا ذکر کرتا ہے کیوں اس شان سے ذکر کرتا ہے؟ بت شکنی ہوتی کیا ہے؟ تب آپ کو معلوم ہوگا کہ توحید کامل کا مضمون کتنا عظیم الشان اور کتنا سر بلند کرنے والا ہے۔یعنی سروں کو بلند کرنے والا ہے اور اس کا عجز کے ساتھ بھی تعلق ہے اور سر بلندی کے ساتھ بھی تعلق ہے اور بعض دفعہ یہ دونوں کیفیتیں بیک وقت جمع ہو جایا کرتی ہیں۔مجھے پہاڑوں پر چڑھنے کا بڑا ہمیشہ سے شوق رہا ہے بچپن میں۔اب تو وقت نہیں ملتا لیکن میں ہائیکنگ بھی کیا کرتا تھا اور پہاڑوں پر بھی چڑھتا تھا۔مجھے پتا ہے کہ سر بلندی کے ساتھ ایک انکسار بھی عطا ہوا کرتا ہے۔جب انسان کسی بلند چوٹی کوس کرتا ہے تو اس وقت روح خدا کے آستانے پر بچھ جایا کرتی ہے اپنی بے حقیقتی ، اپنی بے بضاعتی ، اپنی بے بسی انسان پر غالب آجایا کرتی ہے۔اس وقت تکبر کی بجائے کہ ہم اتنی بلندی پہ پہنچ گئے ہیں اس وقت اسے اپنی بے حیثیتی ، بے بضاعتی کا احساس ہوتا ہے، اپنی بے بسی کا اور کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔پس تو حید کامل کا سفر بہت ہی عظیم الشان سفر ہے اور نا قابل بیان لذتیں اپنی راہوں کی ہر منزل پر رکھتا ہے آپ کے لئے۔صرف آپ نے آگے بڑھنا ہے اور ان لذتوں سے فیض یاب ہونا ہے اور یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔خدا پر توکل کرتے ہوئے ، دعائیں کرتے ہوئے آپ کے لئے لازم ہے کہ آپ یہ سفر اختیار کریں۔اگر یہ نہیں کریں گے تو آپ نہ مصائب سے نجات حاصل کر سکتے ہیں نہ دنیا پہ کسی قسم کا حقیقی غلبہ حاصل کر سکتے ہیں۔عددی غلبہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک اس عددی غلبے کے پیچھے غلبہ تو حید نہ ہو اور غلبہ تو حید نعرہ ہائے تکبیر کو بلند کرنانہیں ہے بلکہ غلبہ ہائے توحید