خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 240
خطبات طاہر جلد ۸ 240 خطبه جمعه ۱۴ / اپریل ۱۹۸۹ء آئندہ بھی اٹھتا رہے گا۔پس خدا کی جماعتیں ہمیشہ اس سوال سے اسی طرح نبرد آزما ہوتی رہیں گی جس طرح حضرت موسیٰ کے وقت میں نبرد آزما ہوئی تھیں۔اس کے جواب میں ان کا جو رد عمل قرآن کریم نے محفوظ فرمایا وہ یہ ہے قَالُوا لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءَ نَا مِنَ الْبَيِّنَتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا فَاقْضِ مَا اَنْتَ قَاضِ (طہ:۷۳) کہ اے جابر بادشاہ ہم ہرگز تجھے ان بینات کے مقابل پر ترجیح نہیں دیں گے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے بھیجی ہیں۔ان روشنیوں کے مقابل پر جو خدا نے نازل فرمائی ہیں ہم ہر گز تمہیں ترجیح نہیں دے سکتے۔وَالَّذِي فَطَرنا اور اپنے رب کے مقابل پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہم کیسے تمہیں ترجیح دے سکتے ہیں۔فَاقْضِ مَا اَنْتَ قَاضِ ہمارا جواب یہ ہے پھر جو کچھ تو کر سکتا ہے کر گزر۔اگر یہ سودا ہے کہ ہم اپنے ایمان کو چھوڑ دیں تمہاری تکلیفوں سے بچنے کے لئے تو پھر ہمارا جواب یہ ہے کہ پھر جو تکلیفیں تمہارے تصور میں آتی ہیں دیتے چلے جاؤ اور دیتے چلے جاؤ لیکن خدا کی قسم ہم اپنے خدا اور اس نور کو نہیں چھوڑیں گے جو خدا نے ہمارے لئے نازل فرمایا ہے۔اِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا بیوقوف تو تو صرف اس دنیا کی قضاء و قدر پر کچھ قدرت رکھتا ہے سارے کی ساری تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ إِنَّا آمَنَّا بِرَبَّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطينَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللهُ خَيْرٌ و ابقی (طہ:۷۴) ہم تو اپنے رب پر ایمان لائے ہیں اس نیت اور اس خواہش کے ساتھ ، ان امیدوں کے ساتھ کہ وہ ہمارے گناہ بخش دے گا اور ہماری خطائیں معاف فرمائے گا اور جو کچھ تو نا جائز باتوں پر ہمیں مجبور کرتا رہا ہے یعنی تیرا معاشرہ جو گندہ معاشرہ تھا جس سے ہم نکل کر آئے ہیں اس لئے ہم سے جو گناہ کروائیں ہیں اس معاشرے نے ان کو سحر کے طور پر بیان فرمایا۔سحر کا ایک معنی جھوٹ۔تو جھوٹی تحریک کے لئے قرآن کریم نے یہاں لفظ سحر استعمال فرمایا ہے اور ان لوگوں کے ذکر میں فرمایا ہے جو تھے بھی جادو گر۔اس لئے قرآنی فصاحت و بلاغت کا کمال ہے۔ان جادو گروں کے ذکر میں لفظ سحر ایک وسیع معنوں میں استعمال فرمایا۔وَ اللهُ خَيْرٌ وَ اَبْقَى تو تو باقی نہیں رہے گا۔تیرے صرف وہی نشان باقی رہیں گے جو عبرت کے نشان بنا دیے جائیں گے۔وَاللهُ خَيْرٌ وَ اَبقی اللہ بہتر ہے اور اللہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔پس تم ایک عارضی فنا ہونے والی قدر کو کیسے ایک بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی قدر کے مقابل پر ترجیح دیں۔اس کے ساتھ ہی