خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 237 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 237

خطبات طاہر جلد ۸ 237 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء غرض ہے۔پس ایک سیاست سے دوسری سیاست کی طرف جماعت نہیں جاسکتی۔ایک سیاستدان کو چھوڑ کر دوسرے سیاستدان کی طرف رُخ اس اُمید میں نہیں کر سکتی کہ وہاں اس کو امن ملے گا اور وہاں اسے فیض نصیب ہوگا اور یا درکھیں کہ خود غرضی اندھی ہوتی ہے اس لئے جب بظاہر بڑے بڑے تعلیم یافتہ سیاستدان انتہائی حماقت کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں جو ایک عام سادہ مومن کو بھی نظر آ رہی ہوتی ہیں کہ یہ حماقت کی باتیں ہیں تو دراصل وہ ساری حماقتیں خود غرضی پر بنی ہوتی ہیں۔یہ ایک ایسا تجزیہ ہے جس میں آپ کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔سیاستدان کی ہر غلطی خود غرضی پر مبنی ہوتی ہے اور چونکہ خود غرضی اندھی ہے اس لئے اندھے کو تو دکھائی نہیں دیتا اس کو تو اپنا ہاتھ بھی نہیں دکھائی دے سکتا۔یہ وہ پس منظر ہے سیاسی جس کے جلو میں یہ سب واقعہ ہوا ہے۔پنجاب کی حکومت نے پہلے ملاں کو اٹھانا شروع کیا اور بڑے زور کے ساتھ یہ اعلان کئے کہ ہماری سیاست ملاں کی سیاست ہے اور ملاں ہمارے ساتھ ہے اور ملاں نے بھی خوب ان کی تائید کی اور اسلام کو جیسا کہ ہمیشہ وہ ظلم کا نشانہ بناتے رہے ہیں اب بھی ظلم کا نشانہ بنایا اور یہ آواز اسلام کے نام پر اٹھائی کہ عورت سربراہ نہیں ہوسکتی۔اس کے نتیجے میں مرکزی سیاست نے جو خود غرضانہ قدم اٹھایا وہ یہ تھا کہ انہوں نے دوسرے صوبے کا مولوی خرید لیا اور ایسا مولوی خریدا جس کے اثرات اور کانٹے پنجاب میں بھی موجود ہیں اور کافی گہرے ہیں۔یعنی ملتان میں بھی ان کا ہیڈ کواٹر ہے اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ہے اور ان کے ساتھ سودا بازی ہوئی جن کا انہوں نے کھلم کھلا اعتراف کیا اور ان سودا بازیوں کے نتیجے میں یہ طے پا گیا کہ عورت کی سربراہی کا جو اسلامی تصورتم رکھتے ہو اس سے دستبردار ہو جاؤ گے۔یعنی تم رکھتے تو ہو تمہیں کامل یقین ہے کہ قرآن کریم کی یہی تعلیم ہے اور رسول کریم ﷺ نے اسی پر زور دیا کہ عورت سربراہ نہیں ہو سکتی اور تم یہ کہتے ہو کہ ایسا ملک ہلاک ہو جایا کرتا ہے جس کی سربراہ عورت ہوتی ہے لیکن آؤ ہم سودا کرتے ہیں تم اس چیز سے باز آ جاؤ اور مقابل پر جتنا احمدی خون چاہئے ، جتنی احمدی عزتیں چاہئیں، جتنے احمدی سر چاہئیں وہ سب تمہارے حضور حاضر ہے۔یعنی کسی کی عزت کا سودا ہورہا ہے ان کو کیا فرق پڑتا ہے اور اس طرح پنجاب کے سامنے انہوں نے ایک بڑا بھاری جوابی مسئلہ کھڑا کر دیا۔انہوں نے کہا اچھا اگر تم نے احمدیوں کی نیلامی بولنی ہے تو ہم سے نیلامی کر کے دیکھ لو۔تم ایک قدم جاؤ گے ان کو مارنے کے لئے ہم دس قدم آگے بڑھیں گے۔نہ تم میں کوئی غیرت ہے نہ ہمیں کوئی