خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 236
خطبات طاہر جلد ۸ 236 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء سوال آئے پھر تو جس طرح نیلامی بولی جاتی ہے اس طرح سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر نیلامی بولتے ہیں کہ ہم اس سے زیادہ ظلم کرنے کے لئے تیار ہیں تم کیا باتیں کر رہے ہو۔اسمبلیوں میں مقابلے ہوتے ہیں اور ہوئے ہیں کہ تم چیز کیا ہو؟ تم کہاں تک ظلم کر سکتے ہو جو ہم نے کئے اور جو ہم کریں گے تمہارے تو خواب و خیال میں بھی نہیں آ سکتے۔جس ملک کی اخلاقی قدریں یہ ہوں جس کی سیادت کا یہ حال ہو کہ دیوالیہ پٹ چکا ہو وہاں یہ توقع رکھنی سیاست سے اور سیاسی راہنماؤں سے کہ وہ اخلاقی قدروں کی بناء پر جماعت احمدیہ کی حفاظت میں کوئی قدم اٹھا ئیں گے بالکل ایک جھوٹا اور لغو خیال ہے اسی لئے میں نے آغاز ہی میں جب یہ سیاسی تبدیلی پیدا ہوئی اپنے پہلے خطبے میں جماعت کو متنبہ کیا تھا۔ایک پہلو سے خوشی کا وقت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک لمبے عرصے کے بعد ایک استبدادی آمریت کا خاتمہ ہوا ہے اور جس رنگ میں ہوا اس میں چونکہ ہماری دعاؤں کا بھی دخل تھا، اس میں ہماری گریہ وزاری کا بھی دخل تھا اس لئے اس پہلو سے ہمارے لئے خوش ہونا ایک طبعی اور فکری عمل ہے لیکن سیاسی افق پر جو نئے نقوش اُبھر رہے ہیں ان کو دیکھ کر تم اپنی تقدیر کے فیصلے نہ کرنا، یہ نہ سمجھ لینا کہ صبح صادق آگئی ہے۔چنانچہ بڑی تفصیل سے میں نے جماعت کو سمجھایا کہ بہت سے اندھیرے ابھی باقی ہیں اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔چنانچہ ان حالات پر نہ صرف یہ کہ با قاعدہ میں نے باریکی سے نظر رکھی بلکہ رابطہ رکھا اور بار بار موجودہ قومی سیادت کو سمجھانے کی کوشش کی کہ بعض وہ بیوقوفیاں دوبارہ نہ کرنا جو پہلے سرزد ہو چکی ہیں کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف یہ کہ وہی نکلیں گے بلکہ اس دفعہ زیادہ بھیا نک نکلیں گے لیکن دراصل سیاست خود غرض ہوتی ہے۔خواہ کتنا ہی ذہین اور فہیم سیاستدان ہو سیاست کی اس بنیاد سے نہیں ہٹ سکتا اسی پر قائم رہتا ہے، اسی پر اس کی سیاست کی عمارت تعمیر ہوتی ہے کہ سیاست خود غرض ہے۔پس جس کی بنیاد میں خود غرضی ہو اس کی عمارت خواہ کتنی بلند ہو، کتنی تعلیم یافتہ دکھائی دے، کتنی ذہانت کے قمقمے روشنیاں وہاں جل رہی ہوں یہ بنیاد بہر حال اپنا رنگ آخر تک بلندی کی انتہاء تک پہنچا دیتی ہے اور اس کی خود غرضی اس کی ہر اینٹ میں ، اس کے سیمنٹ کے ہر حصے میں اپنے جلوے دکھا رہی ہوتی ہے۔پس سیاست خودغرض ہے اس کو یا درکھیں۔صرف پاکستان کی سیاست کا سوال نہیں ، ہندوستان کی سیاست بھی خود غرض ہے، انگلستان کی سیاست بھی خود غرض ہے ، امریکہ کی سیاست بھی خود غرض ہے، روس کی سیاست بھی خود