خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 206

خطبات طاہر جلد ۸ 206 خطبہ جمعہ ۳۱ / مارچ ۱۹۸۹ء آپ میں نو جوان بھی ہیں، بڑی عمر کے بھی ہیں ، عورتیں اور بچے بھی ہیں۔ایک لمبے عرصے تک آپ لوگوں نے اس ملک میں اس طرح زندگی گزاری کہ ایک با قاعدہ نظام جماعت قائم نہیں تھا اور نظام جماعت کے وسیلے سے آپ تک جماعتی پیغامات نہیں پہنچتے رہے اور اولاد کی تربیت کے سلسلے میں بھی نظام جماعت نے کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ آپ کی مائیں اگر وہ دینی علم رکھتی تھیں انہوں نے حتی المقدور کوشش کی کہ اپنے بچوں کو دین کی راہ پہ قائم رکھیں اور دینی علوم سے آراستہ کریں لیکن یہ انفرادی کوششیں تھیں اور بالعموم یہاں کے نوجوان ایسے ماحول میں پرورش پاتے رہے ہیں جہاں وہ اعلیٰ اسلامی اقدار سے واقف نہیں ہیں اور بچے بھی جن سکولوں میں تعلیم پاتے ہیں وہاں چونکہ مسلمان بہت کم ہیں اس لئے ماں باپ کو یہ اندازہ نہیں ہو سکتا کہ کن باتوں کا وہ اثر قبول کر چکے ہیں۔یہ وہ خطرات ہیں جن کے پیش نظر مقامی جماعت کو انتظامی لحاظ سے بہت سی ایسی کوششیں کرنی ہوں گی کہ ہماری نوجوان نسلیں نہ صرف سنبھلیں بلکہ دین کے ساتھ ان کی ذاتی محبت پیدا ہو۔ایک ذاتی لگاؤ پیدا ہو اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنا دفاع کر سکیں بلکہ اسلام کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کا ایک ولولہ ان کے دل میں پیدا ہو جائے۔اندرونی طور پر مضبوطی ہی پیدا نہ ہو بلکہ بیرونی لحاظ سے بھی ان کے اندر مضبوطی اور پیش قدمی کی صلاحیتیں پیدا ہو جائیں۔یہ اگر ہم کرنے میں کامیاب ہو جا ئیں تو جیسا کہ میں نے تمہیدی بیان میں بتایا ہے یہاں کی سرزمین میرے نزدیک صالح سرزمین ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ جو اچھا بیج اس زمین میں بویا جائے وہ نشو ونما پائے۔آئرلینڈ میں میرے علم میں ابھی تک کوئی مرد تو ایسا نہیں جس نے اسلام قبول کیا ہو لیکن بعض خواتین ایسی ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور اگر چہ آغاز میں اس کا ذریعہ ان کی شادیاں بنیں لیکن محض اس لئے وہ مسلمان نہیں ہوئیں کہ کسی احمدی مسلمان سے ان کی شادی ہوئی تھی بلکہ پورے غور اور تدبر کے بعد لمبے عرصے تک اسلام کی چھان بین کے بعد پھر انہوں نے یہ قدم اٹھائے۔ایسی دو خواتین کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ایک ماریشس میں ہیں اور ایک انگلستان میں تھیں اور اب مجھے معلوم نہیں وہیں ہیں یا کہیں اور چلی گئی ہیں لیکن خدا کے فضل سے دونوں کا دینی معیار نہایت بلند اور ایسا بلند تھا کہ میں اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوا۔اپنے بچوں کی تربیت کے لحاظ سے بھی وہ نہایت اچھی مائیں بنی ہوئی تھیں اور مجھے امید ہے کہ ہمیشہ اچھی مائیں بنی رہیں گی۔ان کی اولاد میں