خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 205

خطبات طاہر جلد ۸ 205 خطبه جمعه ۳۱ / مارچ ۱۹۸۹ء ہیں اور مضبوط کرنے کے لئے منصوبے بنا رہے ہیں اس علاقے کے لوگ بہت ہی خلیق اور انسانی اقدار سے مزین ہیں۔با اخلاق لوگ ہیں اور ہمسایہ ہمسائے کا خیال رکھتا ہے۔عام دنیا کی انسانی قدر میں یورپ میں اس علاقے میں باقی ملکوں کے مقابل پر زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔اسی طرح جو تجربہ مجھے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرنے کا ہوا ہے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ یہاں کے صحافی بھی مخیر ہیں اپنے دل کے لحاظ سے اور جو باتیں ان کو پسند آتی ہیں ان کو کھول کر دوسروں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور اس بات میں عار محسوس نہیں کرتے کہ ان کے عقیدے کے خلاف اگر کوئی شخص ، کوئی ٹھوس دلیل پیش کرے تو اسے تسلیم کریں اور اسے دنیا کی نظر میں بھی لے کر آئیں۔چنانچہ جو پہلا تعارفی مضمون میرے آنے پر یہاں ایک اخبار میں شائع ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت ہی کھلے دل کے ساتھ اور وسیع نظر کے ساتھ اس لکھنے والے نے جماعت احمدیہ کا مطالعہ کیا اور قطعاً کسی قسم کی کنجوسی سے کام نہیں لیا مضمون میں محض فراخ دلی کے ساتھ جماعت کی اچھی باتیں بیان کی گئیں اور خیر مقدم کیا گیا اور یہ وعدہ کیا گیا کہ اس سلسلے میں آئندہ بھی میں اور مضامین شائع کروں گا۔اسی طرح اس سے پہلے ان سے بھی کل ملاقات ہو چکی ہے یعنی لکھنے والے سے، اس سے پہلے یہاں ڈبلن (Doblen) میں دو مختلف اخباروں کے صحافی تشریف لائے ہوئے تھے ان سے گفتگو کے دوران بھی میں نے یہی اندازہ کیا کہ یہاں کے لوگ اچھے اور صاف دل ہیں اور دراصل مذہب میں جو چیز زیادہ کام آتی ہے وہ دل کی نیکی ہے اور سعادت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جس کی فطرت نیک ہے آئے گا وہ انجام کار تو مجھے تو یہاں بہت ہی جو ہر قابل دکھائی دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس علاقے کے لوگوں کی فطرت نیک ہے اس لحاظ سے میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ چھوٹی سی جماعت جسے آج ہم یہاں دیکھتے ہیں بڑھنے اور نشو ونما پانے کی صلاحیت رکھتی ہے یعنی بیرونی لحاظ سے یہ صلاحیت موجود ہے۔وہ سرزمین جہاں ہم احمدیت اور اسلام کا بیج بونا چاہتے ہیں وہ زمین با صلاحیت ہے۔اب پیج با صلاحیت ہے یا نہیں یہ دوسرا پہلو ہے اور اس پہلو کی طرف میں اس جماعت کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔