خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 198

خطبات طاہر جلد ۸ 198 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء پنجاب گورنمنٹ کے ہوم ڈپارٹمنٹ نے بذریعہ ٹیلی پرنٹر پیغام بتاریخ ۲۰ / مارچ ۱۹۸۹ء میں متذکرہ بالا قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر صوبے بھر میں پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔کہ حکومت پنجاب نے فلاں فلاں قانون بذریعہ فلاں کے ذریعہ جو ٹیلی پرنٹر کے ذریعے بھجوایا گیا تھا ان کے اوپر پابندی لگانے کا فیصلہ اور یہ خوش ہورہے ہیں۔یعنی دلوں کے اوپر بھی پنجاب کی حکومت فیصلہ کرے گی کہ کیا واردات گزرے۔ایسا بیوقوفوں والا فیصلہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومتوں کی تاریخ میں ایک منفرد فیصلہ ہے۔بڑی بڑی جاہل حکومتیں ہم نے سنی ہیں تاریخ میں ذکر بھی کرتے ہیں مگر ایسا احمقانہ، ایسا جاہلانہ حکم نامہ آج تک میرا خیال ہے دنیا کی کبھی کسی حکومت کو جاری کرنے کی توفیق نہیں ہوئی ہوگی۔پھر وہ فرماتے ہیں۔اور جبکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی PPC ایکٹ XLV ۱۸۶۰ء کے تحت قادیانی گروہ کے کسی شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے دین کو اسلام کہے یا قرار دے یا اپنے دین کی تبلیغ یا پر چار کرے یا دوسروں کو اپنے دین کی تحریری زبان یا کسی مرئی طریق سے دعوت دے یا کسی بھی انداز سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو مستوجب سز ا ٹھہرے گا جبکہ میری رائے اور گورنمنٹ کے مندرجہ بالا فیصلے اور تعزیرات پاکستان کے مندرجات کے مطابق اور زیر دفعہ ۲۹۸سی PPC ایکٹ XLV آف ۱۸۶۰۔ایسی کافی وجوہات موجود ہیں کہ اس کی (یعنی صد سالہ تقریبات کی فوری روک تھام کی جائے اور ایسی ہدایات کا اجراء ضروری ہے جو انسانی زندگی ، املاک اور امن و سکون عامہ کو درپیش خطرہ کا انسداد کریں۔اس لئے اب میں چوہدری محمد سلیم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ دفعہ ۱۹۹۸ PC ۱۴۴ج کے تحت اپنے اختیارات کو بروئے کارلاتے ہوئے قادیانیوں کو ضلع جھنگ میں مندرجہ ذیل سرگرمیوں سے باز رکھنے کے لئے حکم صادر کرتا ہوں۔عمارات اور ان کے احاطوں میں چراغاں کرنا۔( یعنی اپنے گھروں کے اندر بھی نہیں چراغاں کر سکتے ) سجاوٹی گیٹ لگانا، جلسے اور جلوس کا انعقاد، لاؤڈ سپیکر یا میگافون کا استعمال، نعرے لگانا ، بیجز آویزاں کرنا، رنگ برنگے قمقے اور بینرز لگانا، پمفلٹ تقسیم کرنا، پوسٹر لگانا، دیواروں پر لکھنا، مٹھائی یا کھانا یا تقسیم کرنا ( جہالت کی حد ہوتی ہے۔کیسی احتیاط ہے زبان میں ماشاء اللہ۔آخر وہ ڈپٹی کمشنر ہیں پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی زبان استعمال کروں کہ کوئی