خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 15

خطبات طاہر جلد ۸ 15 خطبہ جمعہ ۶ /جنوری ۱۹۸۹ء لئے وقف کیا جائے اور اگر یہ ضرورت پوری ہوگئی یعنی ضرورتیں تو دین کی ویسے کبھی پورا نہیں ہوا کرتیں مگر اگر ایسا وقت آیا کہ ہندوستان کی جماعتیں اپنی کوششوں کے لئے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکیں اور اللہ کرے کہ جلد وہ وقت آئے تو پھر اسی روپے کو آپ کے بچوں کی تربیت کے لئے استعمال کیا جائے گا اور جس طرح معلمین تیار کئے جاتے ہیں، مدرس کے طور پر جگہ جگہ بیٹھ کر چھوٹی جماعتوں میں پورے مربی کی تعلیم تو وہ نہیں پاتے لیکن اتنا علم ضرور رکھتے ہیں کہ ابتدائی قرآن کی تعلیم ، نماز روزے کی تعلیم دے سکیں تو اس قسم کے معلم پھر غیر ملکوں میں بھی رکھے جاسکتے ہیں۔تو یہ تحریک انشاء اللہ تعالیٰ ایک لمبی چلنے والی تحریک ہے اور بہت ہی نتیجہ خیز ثابت ہوگی لیکن سردست تو فوری ضرورت ہمیں ہندوستان کے لئے ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ وہ جماعتیں بھی جب تک اس تحریک کے فوائد سے غافل رہنے کی وجہ سے اس میں ہلکا حصہ لیتی رہی ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب جماعت کو احساس ہو جائے کہ اس چیز کی ضرورت ہے تو پھر وہ ہلکا حصہ نہیں لیا کرتی بلکہ بعض دفعہ تو روکنا پڑتا ہے سمجھا کر کہنا پڑتا ہے کہ اس سے زیادہ نہ بڑھو۔اس لئے یہ تو ناممکن ہے کہ جماعت میں وقف جدید کی طرف اس لئے توجہ نہ دی ہو کہ ان کے اندرا خلاص میں کمی آگئی ہے۔نعوذ باللہ من ذالک لیکن یہ یقینی بات ہے کہ وقف جدید کے فوائد اور اس کے عالمی اثرات سے ناواقفیت کے نتیجہ میں جماعت کا رد عمل نسبتا نرم ہوا ہو۔اس لئے میں آپ کو یاد کرا رہا ہوں کہ یہ اس کے مقاصد ہیں یہ اس کے فوائد ہیں، ضروریات ہیں۔اس لئے جہاں تک توفیق ہو آپ اس تحریک میں پہلے سے بڑھ کر حصہ لیں اور آخر پر جو بات یاد دہانی کے طور پر کہتا ہوں کہ اپنے بچوں کو کثرت سے اس میں شامل کریں۔جو تعداد مجھے ملی ہے مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ اعداد وشمار درست ہوں گے یہ بتایا گیا ہے کہ صرف چھ ہزار احباب ہیں بیرون پاکستان جو وقف جدید میں اب تک شامل ہوئے ہیں۔یہ ماننے والی بات نہیں ہے ضرور اعداد و شمار بھجوانے میں غلطی ہوئی ہے مگر کوشش یہ کرنی چاہئے کہ کوئی احمدی بچہ بھی ایسا نہ رہے جو وقف جدید میں شامل نہ ہو اور باہر کے لحاظ سے اگر آپ ایک پاؤنڈ مثلاً انگلستان کے لئے ایک بچے کے لئے پیش کر دیں تو میرے خیال میں تو کوئی ایسی مشکل نہیں ہے اور اگر نسبتا بڑے بچوں کو یہ عادت ڈالیں کہ وہ اپنے ہاتھ سے پیش کریں اور اور اپنے جیب خرچ میں سے پیش