خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 14
خطبات طاہر جلد ۸ 14 خطبه جمعه ۶ جنوری ۱۹۸۹ء کو بھی وقف جدید میں شامل کیا جائے خواہ وہ اپنا رو پید اپنے پاس ہی رکھیں۔چنانچہ کچھ نیم دلی کے ساتھ یہ تحریک آج سے بہت پہلے جاری ہو گئی تھی اور مختلف رپورٹوں میں ہمیں یہ اطلاع ملتی تھی کہ افریقہ کے بعض ممالک میں، یورپ نے یا امریکہ نے کچھ کچھ روپیہ وقف جدید میں بھی ادا کیا ہے جو اُن کے مقامی فنڈ میں شامل کر لیا گیا۔آج سے تین چار سال پہلے کی بات ہے غالبا تین سال پہلے کی بات ہے جب شدھی کے خلاف جہاد کی میں نے تحریک کی ہے تو اس وقت شدھی کے لئے وقتی روپے کی کچھ ضرورت تھی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری ہو گئی لیکن یہ ایک ایسا کام نہیں ہے جسے ہم تھوڑا بہت کرنے کے بعد بھلا دیں۔ہندوستان میں وسیع پیمانے پر مختلف صوبوں میں مسلمانوں کو مرتد کر کے دوبارہ ہندو بنانے کی منظم کوششیں جاری ہیں اور جتنی زیادہ میں تحقیق کروا رہا ہوں اتنا ہی زیادہ ہولناک منظر سامنے آ رہا ہے۔علی گڑھ جو مسلم یونیورسٹی کا مرکز ہے اور اسلامی تعلیم کا ہندوستان میں ایسا مرکز ہے گویا ایک روشنی کا مینار ہے وہاں۔اُس کے اردگرد ہزاروں گاؤں ایسے ہیں جو مسلمان ہوئے تھے چند نسلیں پہلے اور اب دوبارہ ہندو بنالئے گئے ہیں۔یوپی (U۔P) میں مسلمان مراکز کے اردگرد مشہور شہروں مثلاً لکھنؤ کے ارد گرد، شاہجہان پور کے ارد گرد، مختلف جگہوں میں یہی قصہ جاری ہے، آندرا پردیش میں راجستھان کو لے لیں، کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں منظم طریق پر یہ تحریک جاری نہ ہو اور پنجاب میں بھی اب یہ ممتد کر دی گئی ہے۔قادیان سے باہر ہم نے یہ تحریک چلائی تھی کہ گرتے ہوئے مسلمانوں کو سنبھالیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی مسجد میں واگزار کروائی گئیں، جہاں اذانیں نہیں ہوتی تھیں اذانیں دلوائی گئیں۔باقاعدہ نمازیں شروع کی گئیں اور مسجدوں کو آباد کیا گیا۔بہت بھاری کام ہوا ہے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ۔پچھلے دنوں چونکہ سیاسی حالات بگڑے ہیں اس لئے اس کام میں ویسی تیزی نہیں رہی لیکن جہاں تک مخالفانہ کوششوں کا تعلق ہے وہ بھی جاری ہیں اُسی طرح اور پنجاب میں اب گزشتہ ایک دو سال کے اندر خصوصیت کیساتھ شدھی کی تحریک منتظم طور پر داخل ہوئی ہے۔ان سب تحریکات کے مقابلے کے لئے ہندوستان کی جو وقف جدید ہے اُس کی یہ استطاعت نہیں ہے، مالی لحاظ سے جتنی ضرورت ہے ہندوستان کی جماعتیں چونکہ چھوٹی رہ گئی ہیں اُن میں یہ طاقت نہیں ہے۔اسی مقصد کے پیش نظر میں نے وقف جدید کو مستقلاً تمام دنیا میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا اور مقصد یہی تھا کہ یہ سارا روپیہ جب تک ضرورت پیش آتی ہے ہندوستان کے