خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 190

خطبات طاہر جلد ۸ 190 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء زبان میں خدا تعالیٰ نے یہ الفاظ قرآن کریم میں محفوظ رکھے کہ سلام ہے اس دن پر جس دن میں پیدا ہوا اور سلام ہے اس دن پر جس دن میں فوت ہو ایا فوت ہوں گا اور اس دن پر بھی سلام جس دن میں دوبارہ اُٹھایا جاؤں گا۔پس نا پیدائش سلامتی کا موجب ہوتی ہے نہ موت کوئی سلامتی کا موجب ہوتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ بعض موتیں خدا تعالیٰ کے نزدیک سلامتی کا موجب بن جایا کرتی ہیں۔رہتی دنیا تک جب تک قرآن کریم رہے گا اور ہمیشہ رہے گا کروڑ ہا اربوں بندے خدا تعالیٰ کے یہ آیت پڑھا کریں گے اور حضرت مسیح کی موت پر بھی سلامتی بھیجا کریں گے۔پس جنازے کا بھی ایک رحمت کے طور پر ذکر کرنا کوئی بے جا بات نہیں ہے۔مجھے یقین ہے کہ خان صاحب کی موت کا دن بھی سلامتی کا دن تھا۔ان کا نام بھی سلام تھا جس دن یہ پیدا ہوئے ایک صحابی کی اولاد کے طور پر پیدا ہوئے۔تمام عمر وفا کے ساتھ احمدیت سے چمٹے رہے۔پس آج ان کی وفات کا دن بھی سلامتی ہی کا دن ہے اور پہلی صدی کا جنازہ جو آج ان کا پڑھا گیا ہے اس لئے لحاظ سے بھی یہ بہت ہی برکتوں کا موجب ہے۔پس ہمیں خدا کی رحمت کے ہر نشان کو محفوظ رکھنا چاہئے۔آئندہ صدی بہت سے انعامات ہمارے لئے لانے والی ہے۔خدا کے بیشمار انعامات جو صدی کے آغاز سے نازل ہونے شروع ہوئے ہم ان کا احاطہ نہیں کر سکتے۔بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کا علم بعد میں ہو گا لیکن ایک بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں سب سے آخر پر لیکن سب سے اہم۔اس صدی کا پہلا الہام جو مجھے ہوا وہ صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا وہ تھا السلام علیکم ورحمۃ اللہ پس ہم سلامتی کی جو باتیں کر رہے ہیں میں نے چاہا کہ میں آپ کو اس خوشخبری میں شریک کروں۔وہ خدا جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس خدا کو گواہ ٹھہرا کر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس صدی کا پہلا پیغام مجھے یہ دیا ہے کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔دنیا خواہ چاہے آپ پر ہزار لعنتیں زبانی ڈالتی پھرے، ہزار ، لاکھ کروڑ کوششیں کرے آپ کو مٹانے کی مگر اس صدی کے سر پر خدا کی طرف سے نازل ہونے والا سلام ہمیشہ آپ کے سروں پر رحمت کے سائے کئے رکھے گا اور ان رحمتوں اور سلامتیوں کے سائے تلے آپ آگے بڑھیں گے یہ صرف میرے نام پیغام نہیں ہے بلکہ تمام دنیا کی جماعت کے لئے یہ پیغام ہے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔یہ بر کاتہ کا لفظ تو مجھے یاد نہیں