خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 179

خطبات طاہر جلد ۸ 179 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء نئی صدی کے آغاز پر خدا تعالیٰ کی طرف سے السلام علیکم کا تحفہ حمد اور شکر کے ساتھ نئی صدی میں داخل ہوں ( خطبه جمعه فرموده ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء بمقام اسلام آباد ٹلفور ڈانگلستان) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: چند دن پہلے ہم ہر بات کا آخری کی نسبت سے ذکر کر رہے تھے کہ یہ پہلی صدی کا آخری جمعہ ہے یا یہ پہلی صدی کی فلاں آخری بات ہے، یہ پہلی صدی کی فلاں آخری بات ہے۔اب دن بڑھ گئے ہیں اور اگلی صدی کی پہلی باتیں کرنے کا وقت آ گیا ہے۔چنانچہ اس پہلو سے خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ آج ہم سب کو احمدیت کی دوسری صدی کا پہلا جمعہ پڑھنے کی توفیق عطا ہورہی ہے۔ہماری بڑی خوش نصیبی ہے کہ تمام جماعت احمد یہ عالمگیر جس کے افراد اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں۔خواہ وہ بڑے ہیں یا چھوٹے ہیں ، مرد ہیں یا عورتیں ہیں، بوڑھے ہیں یا بچے ہیں وہ سب جو گزشتہ صدی بھی دیکھ سکے اور اس نئی صدی میں داخل ہوئے اور آج ہم اکٹھے اس نئی صدی کے سر پر کھڑے ہیں اور دور تک پھیلے ہوئے اگلی صدی کے منظر کا تصور باندھ رہے ہیں۔بعض دفعہ سڑکیں یا مناظر فی ذاتہ نہ اونچے ہوتے ہیں نہ نیچے ہوتے ہیں لیکن دیکھنے والے کو وہ اونچے یا نیچے دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔سائنس میوزیم میں اس قسم کے کئی نظارے نظر کے دھوکوں کو ظاہر کرنے کے لئے دکھائے جاتے ہیں۔گزشتہ مرتبہ جب مجھے کینیا جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک سڑک کے اوپر قافلے کے جملہ افراد کی راہیں بٹ گئیں۔بعضوں کا خیال تھا کہ یہ سڑک اوپر جارہی ہے اور بعضوں کا خیال تھا