خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 174
خطبات طاہر جلد ۸ 174 خطبہ جمعہ ۱۷/ مارچ ۱۹۸۹ء کروارہی ہے ان سب باتوں سے بے نیاز ہو جاؤ۔تمہاری فتح کا دن وہ دن ہے جب اسلام کی خاطر تم قربان ہو جاؤ گے۔ہم میں سے ہر وہ شخص جو اسلام کی راہ میں قربانیاں دیتے ہوئے اپنے وجود کوکھو دیتا ہے وہ دن جس دن اُس نے اپنے وجود کو کھویا اُس کی فتح کا دن ہے۔یہی وہ راز تھا جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اپنے غلاموں کو سکھا دیا تھا اور پھر اس کے بعد اسلام کے لئے کسی شکست کا کوئی سوال باقی نہیں رہا تھا۔ایک موقع پر ایک صحابی کو جب دشمنوں نے گھیرا ہوا تھا تو پیشتر اس کے کہ وہ جلاد نیزہ مار کے اُن کو شہید کرتے جب وہ جلاد نیزہ مارنے کے لئے اُن کی طرف بڑھ رہا تھا تو انہوں نے بڑے زور سے نعرہ لگایا فزت برب الكعبة - فزت برب الكعبة ) بخارى کتاب المغازی حدیث نمبر: ۳۸۶۴) که میں تو کامیاب ہو گیا۔رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔حیرت اور استعجاب سے اُن لوگوں نے اس آواز کو سنا جو ایک شہید ہونے والے کے آخری لمحوں کی آواز تھی اور وہ بعض دلوں میں ایسا ڈوب گئی کہ اُن کو چین نہیں آیا جب تک کہ انہوں نے اسلام کے متعلق مزید تحقیق کر کے اُس کو سچا پاتے ہوئے اُس کو قبول نہ کر لیا۔پس آنحضور ﷺ نے جو فتح کا ایک راز اپنے غلاموں کو سکھا دیا تھا وہ یہی راز تھا کہ تمہاری فتح کا دن وہ دن ہے جب خدا کے حضور تم اپنا سب کچھ پیش کر دو پھر اس بات سے بے نیاز ہو جاؤ کہ تمہاری نسلیں کیا دیکھتی ہیں اور کیا نہیں دیکھتیں۔پس اس عزم کے ساتھ آگے بڑھو میں جانتا ہوں کہ خدا کی تقدیر ضرور اور ضرور عظیم الشان فتوحات دکھائے گی لیکن میں یہ تعلیم دیتا ہوں اور یہ میں قرآن اور محمد مصطفی" کی تعلیم سے آپ کو دیتا ہوں اپنی طرف سے نہیں دے رہا کہ ان فتوحات کی لالچ میں آگے نہ بڑھو، اُن فتوحات کی حرص لے کر آگے نہ بڑھو کیونکہ حقیقی اور اصلی اور دائمی فتح تمہاری قربانی کا دن ہے اور تمہاری قربانی کی فتح ہے۔پس اپنی قربانی کے حوصلے بلند کرتے ہوئے پہلے سے بڑھ کر قربانی کے ارادے اور منتیں باندھتے ہوئے اگلی صدی میں داخل ہو اور خدا سے یہ عرض کرو کہ جب بھی ہماری واپسی کا وقت آئے تیرے حضور ہم فلاح پانے والوں میں شامل ہوں۔اگر ایسا کرلو گے تو ہر آن، ہر قدم فتح ہی کا دن ہے، ہر لحہ ہماری فتح کا لمحہ ہو گا۔ہم میں نئے آنے والے بھی فاتحانہ شان سے اس دنیا میں داخل ہو رہے ہوں گے، ہم میں سے وہ جو اس دنیا سے جدا ہورہے ہوں گے وہ بھی فاتحانہ شان میں اس دنیا سے جدا ہورہے ہوں گے۔یہ وہ جماعت ہوگی جس کو دنیا کی کوئی طاقت مفتوح اور مغلوب نہیں کر سکے گی۔