خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 173

خطبات طاہر جلد ۸ 173 خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۸۹ء تمام قسمیں اُن پر غالب آجاتی ہیں اور اُن کو اپنی خوراک بنالیا کرتی ہیں۔بے طاقت، بے رفتار ، دشمن سے بھاگنے کی بھی اُن کو طاقت نہیں ہوتی ، کسی پر حملے کرنے کی بھی اُن کو طاقت نہیں ، زندگی کی کمزور ترین صورتوں میں سے ایک صورت ہے اور جم بھی بالکل معمولی ادنی سا۔کبھی کبھی سمندر کی لہر میں اُن گھونگھوں کو خشکی پر ساحل پر پھینک دیا کرتی ہیں۔آپ دیکھتے ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹا، کمزور سے کمزور بچہ بھی اُن پر ہاتھ ڈالتا ہے اُن کو اپنے دفاع کی طاقت نہیں ہوتی۔وہی گھونگھے ہیں جو عجز اور انکساری کے ساتھ جانیں دیتے ہوئے سمندر کے فرشوں پر ہسمندر کی زمینوں پر ایک کے بعد دوسرا گرتا چلا جاتا ہے اور وہ ایک زندگی میں نہیں ، دو زندگیوں میں نہیں ہزاروں لاکھوں نسلوں میں بھی یہ امید نہیں کر سکتے اتنے کمزور ہیں اور اتنے چھوٹے ہیں کہ کبھی اُن کا سرسمندر کی لہروں کی سطح سے باہر بلند ہو سکے گا لیکن کامل استقلال کے ساتھ مسلسل اُن کی ایک نسل اور پھر دوسری نسل اور پھر تیسری نسل مرمرکز سمندر کی تہہ بھرتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آتا ہے کہ سمندر کی سطح سے اُن کا سر واقعہ بلند ہو جاتا ہے اور زندگی کی دوسری قسمیں وہاں امن ڈھونڈتی ہیں اور اُن کی قبروں پر نئی زمینیں، نئی کائناتیں بنتی ہیں ، نئے جزیرے وجود پذیر ہوتے ہیں۔تو ہماری یہ حیثیت اگر گھونگھوں سے بڑھ کر نہ ہوتب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔اگر ہم میں اپنے دفاع کی کوئی طاقت نہ ہو تب بھی فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ہاں ایک چیز کی ضرورت ہے عزم کی اور یقین کی اور جد وجہد مسلسل کی۔پیہم مسلسل سعی کرتے چلے جائیں اور یہ جان لیں کہ گھونگھوں کے جزیرے بھی بنی نوع انسان کے لئے فائدہ بخش ہوتے ہیں لیکن آپ کی نعشوں پر ، آپ کی نسلوں کی نعشوں پر جو اسلام کے جزیرے تعمیر ہوں گے اُن سے بڑھ کر دنیا کے لئے کوئی فائدہ مند جزیرے کبھی نہیں بنائے گا لیکن آپ کا مقابلہ کسی ایک سمندر کے کسی ایک حصے سے نہیں ہے۔آج بدی کا پانی تمام دنیا کی خشکیوں کو غرق کر چکا ہے۔آپ کو مسلسل ایسی قربانیاں دینی ہوں گی کہ ایک یا دو جزیرے نہیں بنانے ہوں گے بلکہ نئی زمینیں تعمیر کرنی ہوں گی اور نئی زمینیں بعد میں بنا کرتی ہیں پہلے خدا تعالیٰ کی طرف سے نئے آسمان بنائے جاتے ہیں۔پس آسمان سے اپنا تعلق جوڑ لو اور کامل یقین رکھو اور پورا تو کل کرو اور انکساری کا دامن تھام لو اور مسلسل جدو جہد کرتے چلے جاؤ اس بات سے بے نیاز ہو جاؤ کہ تم آج فتح کا منہ کیوں نہیں دیکھ رہے یا کل فتح کا منہ کیوں نہیں دیکھ رہے۔تمہاری نسلوں کو کیوں خدا تعالیٰ کی تقدیر اور انتظار