خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 167
خطبات طاہر جلد ۸ 167 خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۸۹ء نئی صدی میں عجز وانکساری کے ساتھ قربانیاں پیش کرتے ہوئے داخل ہوں خطبه جمعه فرموده ۱۷ / مارچ ۱۹۸۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات تلاوت کیں: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفَان فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفَانْ لَّا تَرَى فِيهَا عِوَجًا وَلَا اَهْتَان يَوْمَدٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَاعِوَجَ لَهُ ۚ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا (۱۰۹۲۱۰۶:۴) جس طرح ہر سال رمضان شریف میں آخری دنوں میں ایک جمعہ آتا ہے جسے ہم جمعۃ الوداع کہا کرتے ہیں اسی طرح احمدیت کی پہلی صدی کے آخر پر آج یہ وہ جمعہ ہے جسے ہم اس صدی کا جمعۃ الوداع کہہ سکتے ہیں۔جوں جوں وقت قریب آ رہا ہے دل کی دھڑکنیں تیز تر ہوتی چلی جارہی ہیں اور آج ہی صبح ہالینڈ کے امیر صاحب نے فون پر ایک بات کرنی تھی جو ہالینڈ ہی کے باشندے ہیں انہوں نے بھی بے ساختہ یہ کہا کہ اب تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے تیز رفتار گاڑی پہ بیٹھ کر ہم اگلی صدی میں داخل ہونے والے ہیں۔جیسے ہوائی جہاز جب ایئر پورٹ پر اتر رہا ہوتا ہے تو اُس وقت رفتار کا زیادہ احساس ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ جب وہ ہوا میں اُڑ رہا ہو۔اس وقت صرف یہی محسوس نہیں ہوتا کہ انسان ایئر پورٹ کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے جہاز میں بیٹھا ہوا بلکہ یوں معلوم