خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 147

خطبات طاہر جلد ۸ 147 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء سمجھدار بھی۔اگر عربوں کی تیل کی دنیا، ان لوگوں سے تعلق پیدا کرتی اور فوری طور پر جوابی کارروائی کے لئے ان کو لکھنے پر آمادہ کرتی اور اس معاملہ میں خرچ کرتی تو ہرگز بعید نہیں تھا کہ رائے عامہ کے میدان میں ایک دفاعی جنگ بڑی شدت کے ساتھ شروع ہو جاتی۔کتابیں لکھوائی جاسکتی تھیں، اخباروں سے جو طاقتور اخبار ہیں ایسے تعلقات قائم کئے جاسکتے تھے اقتصادی دباؤ کے نتیجے میں کہ وہ اخبارات از خود مسلمانوں کے نقطہ نگاہ کو خوب عمدگی کے ساتھ ، وضاحت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتے۔دنیا کے معاملات میں سیاست کے معاملات میں لوگ اخبارات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض دفعہ ان کو خرید بھی لیتے ہیں اگر وہ تعاون نہ کریں۔یہیں انگلستان کی بات ہے کہ اُنیسویں صدی کے آخر پر ۱۸۸۸ء یا اس کے لگ بھگ ایک پارسی ، ہندوستان کے پارسی کو خیال آیا کہ میں انگلستان کی پارلیمنٹ کا ممبر بنوں چونکہ وہ بڑے اچھے مقرر اور بہت اچھے لکھنے والے اور انہی کی یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے تھے۔ان کا خیال تھا کہ میرے علم سے متاثر ہو کر مجھے لوگ ووٹ دیں گے اور میں جیت جاؤں گا۔اپنے متعلق ان کی یہ حسن ظنی درست تھی لیکن وہ و ہم غلط تھا کہ یہ قوم ان کو یہ کرنے دے گی۔کیونکہ آج کل تو ایسی باتیں عام ہیں لیکن اس زمانے میں یہ سوچنا کہ انگلستان کی پارلیمنٹ میں ایک ہندوستان کا کالا نمائندہ بن جائے یہ ایک بہت بعید کی بات تھی۔چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ جب انہوں نے اپنے الیکشن میں کھڑے ہونے کا اعلان کیا تو تمام اخبارات نے ان کی خبروں کا بائیکاٹ کر دیا۔کوئی بھی خبر شائع نہیں کرتا تھا۔کیونکہ وہ بہت بڑا دولت مند گھر تھا۔یعنی پارسیوں کا جو گھر تھا مجھے اس وقت ان کا نام یاد نہیں لیکن بہت دولت مند لوگ تھے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انگلستان کا سب سے زیادہ چھپنے والا اور با اثر اخبار خرید لیا جائے۔چنانچہ وہ پہنچے ایک اخبار کے پاس اور اس سے کہا کہ تمہارے شیئر ز بکتے ہیں تو ہم حاضر ہیں خریدنے کے لئے۔اتنے شیئر ز خرید لئے سارا اخبار نہیں خریدا وہ بھی تاجر لوگ تھے لیکن اس کے نتیجے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ان کو اکثریت حاصل ہوگئی۔چنانچہ اس دن کے بعد اس اخبار نے مسلسل ان کے حق میں لکھنا شروع کیا اور ان کی خبریں دینی شروع کیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ سترہ ووٹوں سے یہ جیت گئے۔اس زمانے میں اس کا اتنا شدید ردعمل ہوا کہ ایک ہندوستانی آکر ہم سے یہ حرکت کر جائے ، ہماری پارلیمنٹ کا ممبر ، ہمارے علی الرغم بن جائے ، ہمارے اخبار خرید کر۔انہوں نے یعنی مخالف پارٹی نے ، جو امیدوار تھے انہوں نے مقدمہ کیا اور کہا کہ ووٹوں