خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 137

خطبات طاہر جلد ۸ 137 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء کے ساتھ یہ تو فرمایا اِنْ تَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا کہ جھوٹ کے سوا وہ کچھ نہیں کہتے۔مگر ان کی کوئی سزا تجویز نہ فرمائی۔پس سب سے بڑا تقدس تو خدا کی ذات کا تقدس ہے۔اس کے متعلق انتہائی گستاخی کا کلمہ قرآن کریم میں مذکور کرنے کے باجود پھر اس کی سزا تجویز نہ کرنا یہ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ کے نتیجے میں انسان کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ خدا کے تقدس پر حملے کے نتیجے میں اس کو کوئی دنیاوی سزا دے۔تو انسان کا کیا رد عمل ہونا چاہئے؟ اس کے لئے آپ نے اس رد عمل کو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کے ردعمل کے طور پر بیان فرما دیا۔فرمایا فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا کہ اگر یہ تیری باتیں سن کر نصیحت نہ پکڑیں تیری ان باتوں کے متعلق ایمان نہ لائیں تو خدا کی اس عظیم گستاخی پر جو یہ کر رہے ہیں کیا تو اتناد کھ محسوس کرے گا کہ اس غم میں اپنے آپ کو ہلاک کرلے گا۔پس رد عمل جو بیان فرمایا گیا اس سے زیادہ قابل اعتماد اور تقلید کے قابل اور کوئی رد عمل نہیں ہو سکتا اور وہ دل کا دکھ ہے اور دکھ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وہ صالح اعمال ہیں جو اسلام کی طرف حملہ کرنے والوں کا ہر میدان میں دفاع کرتے ہیں اور عمل صالح کا در حقیقت دل کے دکھ اور دل کے خلوص سے گہرا تعلق ہے پس یہ پھر عظیم الشان عالمی جد و جہد جو عیسائیت کے خلاف یا ان مذاہب کے بدعقائد کے خلاف حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جاری فرمائی اس کا اس دکھ سے گہرا تعلق ہے۔دوسرا گستاخی کا ایک نمونہ قرآن کریم نے خود عیسائیوں سے تعلق رکھنے کے سلسلے میں پیش کیا لیکن اس کا حملہ خدا پر نہیں بلکہ خودان عیسائیوں پر تھا۔عجیب ہے خدا کی شان اور فصاحت و بلاغت قرآن کریم کی کہ یہ دونوں نمونے عیسائیت سے تعلق رکھنے والے پیش کئے گئے ہیں۔ایک میں عیسائیت خدا کے تقدس پر حملہ آور ہو رہی ہے۔دوسرے میں عظیم عیسائیت کے دشمن حضرت مسیح اور حضرت مریم کے تقدس پر حملہ آور ہورہے ہیں اور واقعہ ایک ہی ہے جس کی بناء پر یہ دونوں کہانیاں بنائی گئی ہیں۔یہ بھی غلط اور وہ بھی غلط۔خدا تعالیٰ کا بیٹا ہونا بھی غلط اور حضرت مسیح کا نعوذ باللہ غیر قانونی ولادت ہونا بھی غلط۔اس دوسرے کفر کا اور دوسری گستاخی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا (النساء: ۱۵۷) که خدا تعالیٰ نے جو یہود پر لعنت ڈالی ہے اس لعنت کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ ہے کہ انہوں