خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 136
خطبات طاہر جلد ۸ 136 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء فتوے جاری کئے گئے انہوں نے اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کئے اور اسلام کو پہلے سے بھی بڑھ کر بھیانک شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع عطا کیا۔چنانچہ اس سلسلے میں قرآنی تعلیم سے متعلق میں جماعت کو بھی مطلع کرنا چاہتا ہوں اور جماعت کی وساطت سے چاہتا ہوں کہ سب دنیا کے سامنے قرآنی تعلیم کے ان بنیادی حصوں کو خوب کھول کر پیش کیا جائے اور بتایا جائے کہ مقدس بزرگوں کی بے حرمتی ہو یا خدا تعالیٰ کی بے حرمتی ہو اس سلسلہ میں قرآن کریم نے ہمیں کیا تعلیم دی ہے اور کیا تہذیب سکھائی ہے۔قرآن کریم کی تین آیات کا میں نے اس موقع پر انتخاب کیا ہے۔ایک ہے: وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِأَبَابِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الكيف ۵ تا ۷ ) ان آیات میں جو سورۃ کہف کی پانچویں تا ساتویں آیات ہیں ان میں خدا تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کے تقدس پر بہت بڑا حملہ کیا ہے اور وہ حملہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف ایک ایسا بیٹا منسوب کیا جو ایک عورت کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔اگر چہ دیو مالائی مذاہب میں اس قسم کے تصورات ملتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے بہت سے بیٹے ہیں لیکن وہ بیٹے انسانی عورت کے بطن سے پیدا ہوئے بیان نہیں کئے جاتے ہیں الا ماشاء اللہ۔یا اگر کئے جاتے تھے تو وہ ایک تاریخ کا حصہ بن چکے تھے لیکن عیسائی مذہب کا یہ عقیدہ جس نے دنیا میں پھیلنا تھا اور دنیا میں ایک بہت ہی وسیع اثر رسوخ پیدا کرنا تھا۔اس گستاخی کو اپنے رسوخ کے ساتھ ہر جگہ پھیلاتا چلا جاتا اس لئے قرآن کریم نے اس کا بہت سختی سے نوٹس لیا۔فرمایا کہ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِم تم تصور نہیں کر سکتے بہت ہی بڑی بات جو انہوں نے خدا کی گستاخی کی ہے کوئی معمولی گستاخی نہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف در حقیقت ازدواجی تعلقات منسوب کئے جارہے ہیں۔چونکہ ایک انسان، خدا کا بیٹا، عورت کے بطن سے خدا کا بیٹا اس کے سوا کوئی تصور پیدا نہ کرتا لیکن اس