خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 99
خطبات طاہر جلد ۸ 60 99 خطبه جمعه ارفروری ۱۹۸۹ء دے دی۔بعض صاحب فہم لوگوں نے یہ سمجھا کہ وہ مجھے بیوقوف بنا گیا ہے۔چنانچہ اُنہوں نے لکھا کہ جناب یہ تو چالا کی کر گیا ہے آپ کے ساتھ اور یہ تو چاہتا ہے کہ عرصہ پورا ہواور پھر آزاد ہو جائے وقف سے پھر اس کو پرواہ کوئی نہ رہے۔تو میں نے اُن کو بتایایا لکھا کہ مجھے سب پتا ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ کیوں یہ ایسا کر رہا ہے لیکن وہ میرے ساتھ چالا کی نہیں کر رہا وہ اپنے نفس کے ساتھ چالا کی کر رہا ہے۔وہ اُن لوگوں میں ہے جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے يُخْدِعُونَ اللهَ وَ الَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (البقره: ۱۰) اس لئے میں اس کی ڈور ڈھیلی چھوڑ رہا ہوں تا کہ یہ جو مجھے ظن ہے اور آپ کو بھی ہے یہ کہیں بدظنی نہ ہو۔اگر وہ اس قسم کا ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں اور جیسا مجھے بھی گمان ہے تو پھر وقف میں رہنے کے لائق نہیں ہے۔تو بجائے اس کے کہ بدظنی کے نتیجے میں یعنی اس فن کے نتیجے میں جو بدظنی بھی ہوسکتی ہے اگر یہ طن غلط ہو تو بدظنی ہے۔ہم اُس کو بدلتے پھریں اور اُس کو بچاتے پھریں۔اُس کو موقع ملنا چاہئے۔چنانچہ وہ حیران رہ گیا کہ میں نے اُس کو اجازت دے دی ہے۔پھر اُس نے کہا اب مزید اتنا مجھے مل جائے تو پھر اتنا روپیہ بھی مجھے مل جائے گا۔میں نے کہا وہ بھی تم لے لو بے شک اور جب وہ واپس گیا تو اُس کے بعد وہی ہوا جو ہونا تھا۔کیسی بیوقوفوں والی چالا کی ہے۔وہ بظاہر سمجھ کی بات جو تقویٰ سے خالی ہوا کرتی ہے اُس کو ہم عام دنیا میں چالا کی کہتے ہیں۔پس اپنے بچوں کو سطحی چالاکیوں سے بھی بچائیں۔بعض بچے شوخیاں کرتے ہیں اور چالاکیاں کرتے ہیں اور اُن کو عادت پڑ جاتی ہے۔وہ دین میں بھی پھر ایسی شوخیوں اور چالاکیوں سے کام لیتے رہتے ہیں اور اُس کے نتیجے میں بعض دفعہ اُن شوخیوں کی تیزی خود اُن کے نفس کو ہلاک کر دیتی ہے۔اس لئے وقف کا معاملہ بہت اہم ہے۔اُن کو یہ سمجھائیں کہ خدا کے ساتھ ایک عہد ہے ہم نے تو کیا ہے بڑے خلوص کے ساتھ اگر تم اس بات کے متحمل نہیں ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ تم واپس چلے جاؤ۔ایک گیٹ اور بھی آئے گا جب یہ بچے بلوغت کے قریب پہنچ رہے ہوں گے اُس وقت دوبارہ جماعت ان سے پوچھے گی کہ چاہتے ہو کہ نہیں چاہتے۔ایک دفعہ امریکہ میں وہ جو ڈزنی لینڈ میں ایک رائیڈ ایسی تھی جس میں بہت ہی زیادہ خوفناک موڑ آتے تھے ، رفتار بھی تیز تھی اُس رائیڈ کی اور اچانک بہت تیزی کے ساتھ مڑتی تھی تو کمزور دل والوں کو خطرہ تھا کہ ممکن ہے کہ کسی کا دل ہی نہ