خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 86

خطبات طاہر جلدے 86 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۸۸ء ایک عظیم قلعے اور ایک عظیم دیوار کے طور پر حائل ہو گئیں۔یوروپین طاقتیں جو دولت یہاں خرچ کر ہی تھیں آپ لوگوں کو عیسائی بنانے کے لئے اور خود چرچ جو چرچ کی اپنی دولت سے جو روپیہ یہاں خرچ کر رہا تھا۔اس کا جماعت احمدیہ کی غریبانہ مساعی سے یہ موازنہ ہے کہ ساری جماعت احمدیہ کی ساری دنیا کی آمدن اتنی نہیں تھی جتنی چرچ کی ایک دن کی آمدن تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ برٹش پارلیمنٹ میں پارلیمنٹ کے ممبرز یہ تجویزیں پیش کر رہے تھے کہ کالونیز کو ہمیشہ کے لئے مستقلاً غلام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کثرت کے ساتھ ان ملکوں میں عیسائیت کی یلغار کر دی جائے اور عیسائی کوششوں کوحکومت کا پوری طرح سایہ حاصل ہونا چاہئے اور ہر قسم کی حمایت اور امداد حاصل ہونی چاہئے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ جبکہ عالمی چرچ کی کونسل نے یہ منصوبہ پیش کیا کہ افریقہ کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک مشنریوں کا اور سکولوں کا اور ہسپتالوں کا ایک جال پھیلا دیا جائے تا کہ چند سالوں کے اندراندرسا را افریقہ عیسائیت کے قبضے میں آجائے۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ احمدی در ولیش واقف زندگی مبلغ ایک ایک دودو کر کے افریقہ کے ممالک میں پہنچے تو غیروں نے تو مخالفت کرنا ہی تھی اپنوں یعنی مسلمانوں نے بھی ان سے ایسا دردناک ظالمانہ سلوک کیا کہ بسا اوقات ان کو مار پیٹ کر مردہ سمجھ کر بازاروں میں چھوڑ دیا جایا کرتا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ دنیا کے دانشور یہ اعلان کر رہے تھے کہ جماعت احمدیہ کی یہ کوشش کہ افریقہ کو عیسائیت کے چنگل سے نجات بخشے ایک احمق کی خواب سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور ان لوگوں کی ساری کوششیں کلیہ ناکام بنادی جائیں گی لیکن آج دیکھو کہ صرف اس غانا میں یہ عظیم الشان مجمع اس بات کی گواہی دینے کے لئے کھڑا ہے کہ خدا کے بندے خدا پر تو کل کرتے ہوئے جب خدا کے کام کے لئے زندگیاں پیش کرتے ہیں اور مصائب کے پہاڑوں کے مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو اللہ کی نصرت آسمان سے بھی نازل ہوتی ہے اور زمین پر سے بھی پیدا ہوتی ہے اور اس کو کامیاب کر کے دکھاتی ہے۔بظاہر یہ غلامی کے زمانے گزر گئے اور تاریخ کی باتیں بن گئیں لیکن جب میں نے اس قلعہ میں غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ نہیں ابھی افریقہ کی غلامی کے دن کٹے نہیں۔ابھی بہت ہی مشقتوں کا سامنا باقی ہے، ابھی آزادی کی طرف کتنی ہی منزلیں طے کرنا پڑی ہیں۔میں نے غور کیا تو مجھے دکھائی دیا کہ روحانی آزادی کا ہی کیا سوال ابھی تک ان کی جسمانی غلامی کے دن بھی پورے نہیں ہوئے۔