خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 889
خطبات طاہر جلدے 889 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۸ء انسان اپنے خدا کی طرف بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کو مواقع عطا کئے جاتے ہیں لیکن ہم میں سے اکثر بدنصیبی سے ان مواقع کو کھوتے چلے جاتے ہیں۔پس جماعت کو فَفِرُ وا اِلَی اللہ کے مضمون کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قناعت سے یہ مضمون نصیب ہوتا ہے اور قناعت کے نتیجے میں پھر اور عظیم الشان ترقیات عطا ہوتی ہیں۔اگر قناعت نہیں تو پھر صبر کی عادت ڈالیں اور اگر صبر نہیں ہے تو پھر خدائے واحد کے ساتھ آپ کا کوئی تعلق قائم نہیں رہے گا کیونکہ بے صبری لازماً شرک اور شیطانیت کے ویرانوں کی طرف انسان کو لے جاتی ہے وہاں بھی اس کو کچھ نصیب نہیں ہوا کرتا۔اس لئے بے صبری در حقیقت نامرادی کی طرف لے کے جاتی ہے۔سب کچھ کھو دینے کا نام بے صبری ہے اور جو خدا نہیں دیتا وہ غیر کوئی دے ہی نہیں سکتا کبھی ، دھوکا ہے صرف سراب ہے۔جب انسان اس سراب کی پیروی کرتا ہے تو وہاں خدا کو پاتا ہے کہ وہ اس کا حساب دے اس کے سوا اسے کچھ نصیب نہیں ہوا کرتا۔پس اللہ تعالیٰ جماعت کو صحیح معنوں میں فرار الی اللہ کی توفیق بخشے۔جماعت کے ہر فرد کو قناعت عطا فرمائے اور صبر کی فصیلیں اس کی قناعت کی اس کی خواہشات کی چاروں طرف سے حفاظت کر رہی ہوں۔ہمیشہ وہ خدا کی پناہ میں رہے اور خدا کی پناہ میں دوڑنے کی عادت ڈالے۔یہ ایسے آپ بن جائیں، اس حالت میں آپ اگلی صدی میں داخل ہوں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کی قسم آپ خدا کی پناہ گاہیں بن جائیں گے۔تمام زمانہ خدا کے ڈھونڈنے کے لئے آپ کی طرف دوڑے گا اور آپ کی پناہ گاہیں دنیا کو ہر قسم کے خطرات سے نجات بخشیں گی۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو، خدا کرے کہ اگلی صدی خدا کی صدی ہو اور خدا کی پناہ گاہوں کی صدی ہو۔آمین۔