خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 863
خطبات طاہر جلدے 863 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۸ء ایک بہت بڑا فرق ہے۔دنیا کی کمائی ہوئی دولت یعنی دنیا کی خاطر دولت کو کمانا یا ہوائے نفس کی خاطر دولت کو کما نا ممکن ہے۔اس کے نتیجے میں دولت میں بھی بہت اضافہ ہوسکتا ہے اور رزق میں وسعت ہو سکتی ہے لیکن ایسی دولت کبھی بھی انسان کو غنی نہیں بنا سکتی۔آپ امیر ملکوں پر نظر ڈال کر دیکھ لیں امریکہ کے حالات دیکھیں ، یورپ کے ممالک کے حالات دیکھیں آپ کو دولتیں تو وہاں دکھائی دیں گی لیکن غنی کی جو سچی تعریف ہے کہ جو کچھ تم چاہتے ہو تمہیں میسر ہو گیا ہے؟ اس کا جواب دنیا کے ہر امیر ملک میں نہیں کے طور پر آئے گا۔ان کی دولتوں کے اضافے کے ساتھ ان کی تمنائیں اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہیں، ان کی خواہشات کے اوپر کوئی پابندی اور کوئی روک نہیں ہے کہ ہمیشہ وہ اپنے آپ کو ایک طلب کی حالت میں پاتے ہیں۔اسی لئے وہ جب غریب ممالک فاقے کر رہے ہوتے ہیں تو ان میں یہ توفیق نہیں ہوتی کہ ان کے فاقوں کو دور کر سکیں کیونکہ عادتیں ایسی گندی ہو چکی ہیں ، زندگی کا معیار ایسا مصنوعی بن چکا ہے کہ اس کو کم کر کے کسی غریب کی حاجت پوری کرنے کی وہ اہلیت نہیں رکھتے۔تھوڑا بہت زائد صدقے کے طور پر دے دیتے ہیں ، دکھاوے کے طور پر دے دیتے ہیں لیکن قانع حقیقت میں دوسرے کی مدد کر سکتا ہے۔غیر قانع کو بچے رنگ میں دوسرے کی مدد کرنے کی بھی توفیق نہیں ملتی۔پس وہ غمنی کیسا ہوا جو کسی ضرورت مند کسی محتاج کی صحیح معنوں میں مدد کرنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتا۔اپنے نفس کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، اس کی خواہشات ہمیشہ اس سے آگے آگے جارہی ہیں۔یہاں آپ انگلستان کے کسی بھی طبقے کا جائزہ لیں ان کی جتنی تنخواہیں بڑھتی ہیں اتنا ہی ان کے مطالبے بھی ساتھ بڑھ جاتے ہیں اور یہ ایک ایسا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں پھر یہ اقتصادی نظام بالآخر لاز مانتباہ ہو جایا کرتے ہیں۔ایسے وقت آتے ہیں کہ قومیں اپنی مستقبل کی آمدنی خرچ کر چکی ہوتی ہیں، اپنی اولادوں کے مستقبل گروی رکھوا چکی ہوتی ہیں اور بالآخر ان نظاموں نے بہر حال بحران کا شکار ہونا ہے۔تو آپ کو بظاہر جو غنی نظر آرہی ہے فی الحقیقت غنی نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ کی عارفانہ تعریف کی رو سے یہ غنی نہیں ہے۔غنی وہی ہے جو قناعت کے ساتھ ہاتھ ملا کر اور قدم ملا کر آگے بڑھتی ہے اور اس کے نتیجے میں پھر کچی غنی نصیب ہوتی ہے اور دنیا کی دولتیں جن کو آپ دنیا کی دولتیں سمجھتے ہیں وہ بھی درحقیقت قانع غنی کو بالآخر نصیب ہوا کرتی ہیں اور ان کی اولادیں اور پھر ان کی اولادیں۔جب تک وہ قناعت کی حدود میں رہتے ہوئے خدا کی رضا کی مزید زمینوں اور مزید رستوں کی تلاش کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ الله