خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 862
خطبات طاہر جلدے 862 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۸ء کیسے امیر ہو گیا جس کی ضروریات یعنی بڑھتی ہوئی ضروریات ،نفس کی طلبیں اس کی توفیق سے ہمیشہ آگے ہوں۔امیر تو وہ ہوا کرتا ہے جس کی ضرورتیں پوری ہوگئیں۔جس غریب کی ضرورتیں ہی پوری نہیں ہو سکتی ان کی ضرورتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں وہ امیر کیسے کہلا سکتا ہے اور اسے آپ غریب کیسے کہہ سکتے ہیں جس کی ہر خواہش اپنی توفیق کے مطابق کائی جاتی ہے اور کاٹی اس طرح نہیں جاتی کہ وہ صبر کے ذریعے بلکہ رضائے باری تعالیٰ کے ذریعے مطمئن ہو کر وہ خواہش چھوٹی کر دی جاتی ہے اور اس خواہش کے چھوٹے ہونے میں وہ لطف محسوس کرتا ہے کیونکہ وہ محبت کے مضمون سے تعلق رکھتی ہے۔وہ خواہش جو کم ہوئی ہے خدا کی رضا اور اس کے پیار کی خاطر کم ہوئی ہے۔اس لئے ایک قانع کے لئے ہمیشہ جنت ہی جنت ہے۔دوسرا پہلو جو آنحضرت ﷺ نے ہمیں سمجھایا وہ یہ ہے کہ غنی کا معنی صرف قانع نہیں ہے بلکہ اصل معنی اس کا یہ ہے کہ بہت بڑا مالدار۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم فقراء ہو خدا کے حضور خداغی ہے۔خدا کے لئے جب غنی کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو قانع کے معنوں میں ہرگز نہیں بلکہ اپنے وسیع تر معانی میں کہ جس کے پاس سب کچھ ہے اور قانعیت سے اس کا صرف اتنا تعلق ہے کے قانع کی بھی ہر بات پوری ہو جاتی ہے اور غنی کی بھی ہر بات پوری ہو جاتی ہے۔تو اس میں آنحضرت ﷺ نے ہمیں خوشخبری بھی عطا فرمائی ہے کہ اگر تم حقیقی غنی بنا چاہتے ہو تو پہلے قانع کی حیثیت سے غنی بنو اگر تم قانع کی حیثیت سے غنی بنو گے تو پھر خدا تعالیٰ تمہیں دوسری غنی بھی عطا فرمائے گا اور مستقل انہی قوموں کا ہوا کرتا ہے جو پہلے بحیثیت قانع غنی بن جایا کرتے ہیں۔وہی دنیا کی دولتوں پر بھی قابض اور مالک ہو جایا کرتے ہیں۔وہ لوگ جن کو قناعت کی غنی نصیب نہیں وہ اپنے آباؤ اجداد کی دولتیں بھی ہاتھوں سے ضائع کر دیا کرتے ہیں۔اس لئے حقیقت میں اپنے رزق کو بڑھانا اور اپنی دولتوں کو وسیع تر کرنا اس مضمون سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ویسے تو دنیا والے بھی دولتوں میں جو اپنی ساری زندگی دولتوں کی کمائی کی خاطر گنوا دیتے ہیں ضرور کچھ نہ کچھ حاصل کرتے ہیں بحیثیت مجموعی بہت بڑی بڑی امیر قو میں دنیا کی حرص کی پیروی میں انسانی زندگی کے پردے پر ابھرتی رہتی ہیں لیکن یہاں جو وعدہ ہے اس کا یہ مطلب نہیں کے دولت تمہیں عطا کر دی جائے گی خواہ اس دولت کے نتیجے میں تمہیں کچھ صلى الله بھی ہو جائے۔دنیا کی قوموں کی دولت اور اس دولت میں جس کا آنحضرت یہ وعدہ دے رہے ہیں