خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 81
خطبات طاہر جلدے 81 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۸۸ء تو وہ صرف اپنے ملک کے باشندوں سے رشوت وصول نہیں کرتے بلکہ غیر قوموں سے رشوت وصول کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور پھر غیر قومیں ان کی بددیانتی کے چور دروازوں سے داخل ہو کر آپ پر حکومت کرنے لگتی ہیں۔یہ ایک بہت ہی بڑا خطرہ ہے جو بہت سے تو نہیں مگر بعض افریقی ممالک میں نہ صرف خطرہ ہے بلکہ واقعہ لاحق ہو چکا ہے، رونما ہو چکا ہے اور بہت سے افریقی ممالک کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔پس ایسی قوموں کے وہ نمائندگان جو غیر اور امیر قوموں سے اقتصادی یا تعلیمی یا معاشرتی یا فوجی معاہدے کرتے ہیں وہ اپنی بددیانتی کی وجہ سے مجبور ہو جاتے ہیں کہ قوم کے مفادات کو بیچیں اور ایسے معاہدے کریں جو ہمیشہ قوم کے مفاد کے خلاف پڑتے ہوں۔چنانچہ اس طریقہ سے غیر قوموں کی غلامی کے چنگل میں دن بدن قوم زیادہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے، زیادہ مجبور اور محبوس ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ وہ خطرہ ہے جو پھر آگے خطروں کو جنم دیتا ہے ملک کے اندر مظلوم لوگ دن بدن اپنے رہنماؤں سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور ان کی نفرت کے اظہار کے لئے اگر ان کے پاس خود کوئی ذریعہ موجود نہ ہو تو پھر غیر قوموں سے مدد مانگتے ہیں۔غیر قوموں کے نظریات سے مدد مانگتے ہیں۔باہر اشترا کی پر تولے ہوئے بیٹھے ہیں کہ ان کو موقع ملے کسی ملک کے غریبوں میں داخل ہونے کا تو وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔دوسری قو میں اپنے اپنے رنگ میں ملکوں میں داخل ہونے کے لئے تیاری کے بیٹھی ہوتی ہیں۔چنانچہ ہر طرف سے غیر قوموں کو نفوذ کے نئے نئے رستے مہیا ہو جاتے ہیں اور سارے ملک کا امن درہم برہم اور تباہ ہو جاتا ہے۔کیونکہ وقت زیادہ ہو رہا ہے ہم نے جلدی سفر پہ جانا ہے اس لئے اب اس تفصیل میں گئے بغیر کہ اور کیا کیا خطرات اس سے پیدا ہوتے ہیں اور جو بہت زیادہ ہیں یعنی جو میں نے بیان کئے ہیں اس سے بہت زیادہ اور بھی ہیں۔میں مختصر ا تمام افریقہ کی احمدی جماعتوں کو یہ نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ ملک کو پیش آمدہ مستقبل کے خطرات سے بچانے کے لئے اپنے ملک کی محبت میں اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کی خاطر وہ کثرت سے لوگوں کو نصیحت کرنی شروع کریں اور ان کے دماغوں کو روشن کرنا شروع کریں اور اپنی سیاسی قیادت سے مل کر ان کو یہ باتیں سمجھائیں اور پیار اور محبت سے تلقین کریں کہ بجائے اس کے کہ عوام الناس کی طرف سے تحریکیں اٹھیں وہ خود سادگی کی تحریکیں حکومت کے بالا شعبوں سے شروع کریں ،حکومت کے بالا خانوں سے شروع کریں اور بار بار عوام کو