خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 80

خطبات طاہر جلدے انکار کر دیا اور ہم دونوں نے پھر سادہ پانی پیا۔80 60 خطبه جمعه ۵/فروری ۱۹۸۸ء میں ہرگز مغربی قوموں کا دشمن نہیں۔میں خدا کے کسی بھی بندہ کا دشمن نہیں بلکہ خدا کے بندوں سے دشمنی کو حرام سمجھتا ہوں۔البتہ میں خدا کے مظلوم بندوں سے محبت کرتا ہوں اور خدا کے غریب بندوں سے زیادہ پیار رکھتا ہوں۔اس لئے غیر قوموں کی دشمنی میں ہرگز نہیں بلکہ آپ مظلوم قوموں کی محبت میں میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ آپ کو اپنے طرز معیشت میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔- جماعت احمد یہ ایک امن پسند جماعت ہے اور یقین رکھتی ہے کہ سچائی کو پھیلانے کے لئے امن کی فضاء ضروری ہے اس لئے ہر وہ خطرہ جو کسی ملک یا کسی خطہ ارض کے امن کو خطرہ ہو وہ درحقیقت مذہب کی قدروں کے لئے بھی خطرہ بن جاتا ہے اور امن کی فضاء کو جو چیز بھی مکدر کرے اور بر باد کرے وہ مذہبی اقدار کے لئے بھی شدید نقصان دہ ہوتی ہے۔اس لئے مستقبل کے بعض خطرات کو بھانپنے کی وجہ سے میں یہ باتیں کر رہا ہوں اور ان کے نتیجہ میں آپ کی خدمت میں کچھ مشورے رکھنا چاہتا ہوں۔اس صورت حال کے نتیجہ میں جو خطرات مجھے دکھائی دے رہے ہیں وہ میں آپ کے سامنے بالکل اختصار کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے موجودہ رجحان یعنی ایک طبقہ کا دن بدن مغربی اقدار میں رنگین ہوتے چلے جانا اور بھی زیادہ خطرات پیدا کرنے کا موجب بنے گا۔یہ طرز زندگی بہت مہنگی ہے۔غریب ملک اس طرز زندگی کو قبول کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ان کو خدا نے ابھی استطاعت نہیں بخشی اور آپ کی غریب حکومتیں اپنے عہد یداروں کو ، حکومت کے کارندوں کو زیادہ تنخواہیں نہیں دے سکتی اس لئے کہ ایک طرف ان کے Tasteبلند ہونا شروع ہو جائیں گے۔ایک طرف ان کے ذوق اونچے ہو جائیں گے، ان کی طلب بڑھ جائے گی ، ٹیلی وژن دیکھ دیکھ کر نئی نئی چیزیں بھی ان کو نظر آئیں گی کہ یہ بھی ہمارے گھر میں ہونی چاہئیں، یہ بھی ہمارے گھر میں ہونی چاہئیں ، دوسری طرف ملک کی غربت ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کر سکے گی۔ایسی صورت حال لازماً Corruption پر منتج ہوتی ہے اور ایسی حکومتیں پھر دن بدن زیادہ سے زیادہ Corrupt اور رشوت ستانی کا شکار ہوتی چلی جاتی ہیں۔حکومت کے ملازم ہوں یا سیاسی راہنما جوان ملازموں کے افسر ہیں جب وہ کر پٹ ہو جاتے ہیں