خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 843
خطبات طاہر جلد ۶ 843 ہو گا لیکن کس سمت میں خدا سے پناہ مانگنی ہے اس کا تعین خطرے نے کرنا ہے۔خطبه جمعه ۱۶اردسمبر ۱۹۸۸ء بعینہ یہی حال گناہوں کا ہے۔گناہوں کے تعین کے بغیر آپ کو یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ خدا سے کس طرح آپ نے پناہ حاصل کرنی ہے۔ہر گناہ اس کے اپنے مقابل پر ایک الہی صفت سے خوف کھاتا ہے اور اس کو اس صفت کے دائرے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔اس لئے جب آپ گناہ کا تعین کر دیں گے تو اس الہی صفت کا تعین خود بخود ہو جائے گا تو ادنی غور سے بھی آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جسے اپنانے کی ضرورت ہے۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے اور بھی بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں کہ پناہ لینے سے اب کیا مراد ہے۔بعض صفات انسان کی ایسی ہیں جو بعض برائیوں سے پناہ دیتی ہیں مگر خدا میں وہ صفات نہیں ہیں یہ بھی ایک سوال اٹھتا ہے تو کیا خدا کے سوا بھی کوئی پناہ دینے والی چیز ہے۔پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا سے پناہ ملنی ہے تو جب تک تمام گناہوں کا شعور نہ ہو انسان کو مکمل پناہ نہیں مل سکتی۔ایک گناہ سے بھاگیں گے خدا کی جس سمت میں اس کا تو ڑ موجود ہے وہاں آپ کو پناہ تو مل جائے گی لیکن بعض اور سمتوں سے حملہ کرنے والے گناہ سے آپ کو پناہ نہیں ملے گی۔اس مضمون کو سمجھنے کے بعد آپ کو کشتی نوح کی اس عبارت کی سمجھ آسکتی ہے جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض چھوٹے چھوٹے گناہوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ جوان گناہوں سے بھی تو بہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔اس تعلیم کو آپ پڑھیں گے تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔یوں محسوس ہوگا کہ کوئی ایک بھی انسان آج دنیا میں ایسا نہیں ہوسکتا جو یقین کے ساتھ یہ کہ سکے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں سے ہوں۔تو کیا مطلب ہے اس تحریر کا ؟ اس سے یہی مراد ہے کہ تم امن میں نہیں ہو۔انبیاء جو جماعت پیدا کرتے ہیں وہ امن کی جماعت ہے یعنی تمام گناہوں سے پوری طرح امن تا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بندے پر کوئی حرف نہ آسکے۔تو مراد یہ ہے کہ تم نے ایک رخنہ چھوڑ دیا اپنے لئے اس لئے کلیہ میری جماعت میں داخل نہیں ہو سکے کیونکہ جو جماعت میں داخل ہے ان کے متعلق خدا کا وعدہ ہے اور ائل وعدہ ہے کہ ان کو دنیا کی کوئی طاقت کسی قسم کا گزند نہیں پہنچاسکتی۔وہ ہر حال میں ہمیشہ خدا کی پناہ میں رہنے والے لوگ ہیں۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مکمل