خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 800 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 800

خطبات طاہر جلدے 800 خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء چلا جارہا ہے۔ان کا دل اپنی اندرونی جہنم سے واقف ہوتا ہے مگر ڈھیٹ اتنے ہوتے ہیں کہ جب وہ وقت گزر جائے گا تو پھر یہ بغلیں بجائیں گے اور کہیں گے دیکھ لو دیکھ لو ہم ابھی بھی زندہ ہیں ہمیں مار کے دکھاؤ۔وہ بھی ایک دور آئے گا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں پھر ایسے لوگ دوبارہ پکڑے جائیں گے لیکن ہمیں پھر بھی یہ دعا کرنی چاہئے کہ عامتہ الناس کے لئے اور احمدیوں میں سے بھی بعض نسبتا کم تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ ایسے نشان بھی ظاہر فرمائے کہ ان کو دیکھنے کے بعد پھر ان کے لئے انکار کا کوئی چارہ نہ رہے اور ضد کریں تو کریں لیکن دنیا یہ کہہ سکتی ہو کہ ہاں ان کی ضد جھوٹی ہے اور یہ بالکل بکواس ہے ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔اس قسم کے نشانات کا بھی سب دنیا میں ظاہر ہونا ضروری ہے کیونکہ اب یہ مباہلہ سب دنیا میں عام ہو گیا ہے اور جہاں جہاں احمدیت پہنچی ہے وہاں کثرت کے ساتھ اس مضمون کو احمدیوں نے پھیلایا ہے اور اپنوں، غیروں،مسلمانوں، غیر مسلموں سب نے اس مضمون کو عام کیا ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ دعا کے لئے توجہ دلاؤں کہ اس بات کو بھی پہلی دعاؤں کے علاوہ اپنی دعاؤں میں خصوصیت سے شامل رکھیں۔بعض لوگ ایسے ہیں جو من جملہ مباہلے کو قبول کرنے کا اعلان بھی کر رہے ہیں۔چند ایسے آدمی ہیں اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو بالکل غیر معروف بیچارے کوئی تاجر ہے، کوئی مقامی طور پر زمیندار ہے ، مولویوں کی باتیں سن کر متاثر ہوئے ہوئے ہیں۔چونکہ نفس میں اندرونی طور پر اپنی بات میں مخلص ضرور ہیں اس لئے جرات کر کے میدان میں چھلانگ لگا دی ہے لیکن لاعلم ہیں ان کو پتا نہیں ہے ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ایسے لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا اور ہمیں کیا کرنا چاہئے اس کے متعلق میں بعض باتیں جماعت کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔اول تو آپ مباہلہ کی تحریر دوبارہ پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ مباہلہ کا چیلنج ہر مسلمان کو نہیں ہے، ہر انکار کرنے والے کو نہیں ہے بلکہ مکفر ، مذب جو اپنی بدتمیزی میں اور افتراپردازی میں حد سے بڑھ چکے ہیں ان کے رہنماؤں کو ہے اور قرآن کریم سے بھی یہی مضمون واضح ہے کہ مباہلہ ہر فرد بشر کو نہیں دیا جاتا، مباہلے کا چیلنج سربراہوں کو دیا جاتا ہے، بڑے بڑے لیڈروں کو دیا جاتا ہے تا کہ قوم اس سے عبرت پکڑے۔اس لئے خدا کی تقدیر کو اس قسم کا تماشانہ