خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 799
خطبات طاہر جلدے 799 خطبه جمعه ۲۵ /نومبر ۱۹۸۸ء فرشتوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔اب یہ باتیں وہ خود منہ سے کہہ رہے ہیں لیکن چونکہ دماغ پاگل ہے وہ یہ سمجھیں گے ہی نہیں کہ یہ کیوں ہو رہا ہے۔اسی لئے میں زور دیتا ہوں کہ دماغوں کی اصلاح کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی اندرونی بصیرت عطا فرمائے ورنہ خالی بصارت کوئی چیز نہیں ہے۔آنکھ کی بصارت کوئی چیز نہیں جب تک نفس اور عقل کی بصیرت عطا نہ ہو۔یہ جو مضمون ہے کہ ہمارے حق میں تقدیر خیر ظاہر ہوگی اور دشمن کے حق میں تقدیر شر ظاہر ہوگی یہ بالعموم تو بہر حال ہونا ہی ہونا ہے اور بڑھتا چلا جائے گا لیکن اس کے سوا میں سمجھتا ہوں کہ عوام الناس کو اطمینان نہیں ہوتا جب تک کچھ لوگ ظاہری طور پر ، جسمانی طور پر بھی خدا کی طرف سے نازل ہونے والے عذاب میں مبتلا نہ ہوں اور جانچنے کے ان کے اپنے مختلف پیمانے ہیں اس بات کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے کہ خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بھاری کثرت ایسے بندوں کی بھی ہے جو معنوی نشانات کو دیکھنے اور سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔باریک تر روحانی نشانات کو دیکھنے اور سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔لیکن جو ظاہری ٹھوس کھلے کھلے نشان ایسے ہیں جو مادی حیثیت سے پیش کئے جاسکیں وہ سمجھنے کی نسبتاً زیادہ اہلیت رکھتے ہیں وہ بندے۔اس لئے یہ بھی دعا ضرور کرنی چاہیے اے خدا! تیرے ہر قسم کے بندے ہیں تو ان کا حال ہم سے بہتر جانتا ہے لیکن ہمارا تجربہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ بعض لوگ کو مغز ہوتے ہیں ان بیچاروں کو یہ باریک اور لطیف اور عظیم الشان نشان بھی ہوں تب بھی اس نوعیت کے نشان دکھائی نہیں دیتے۔جماعت کی دنیا میں جتنی مرضی ترقی ہو جائے وہ سمجھیں گے مبللہ پورا نہیں ہوا جب تک کوئی ان کا بڑا مولوی واقعتہ میدان میں پچھاڑ کھا کر نہ گرے اور اس طرح خدا کی پکڑ کا شکار نہ ہو کہ دنیا دیکھے اور کہے ہاں اس کور یزہ ریزہ کردیا گیا ہے یا ایسی ذلت کی مار پڑی ہے کہ ہر کس و ناکس اسے دیکھ کے استغفار کرے اور تو بہ کرے۔تو بعض صورتوں میں ایسے نشان بھی ہمیں مانگنے چاہئیں اور مانگنے پڑیں گے ورنہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر ان میں سے کچھ لوگ ویسے بچ گئے اور عام ہی ذلت کا شکار رہے تو بعد میں انہوں نے کہہ دینا ہے کہ دیکھو جماعت جھوٹی ہے ہم ابھی بھی زندہ ہیں ہمیں کچھ نہیں ہوا۔خواہ کیسی ذلت کی حالت میں زندہ ہوں، خواہ کیسی کیسی دل پر چوٹیں پڑ چکی ہوں اس وقت تک اور ایک قسم کی جہنم میں سے گزر کے آئے ہوں کہ خدا تعالیٰ ہم سے تو رحمت کا سلوک کر رہا ہے اور ان کی ہر امید پر پانی پھرتا