خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 792 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 792

خطبات طاہر جلدے 792 خطبه جمعه ۲۵ /نومبر ۱۹۸۸ء مانگ رہے ہیں، استغفار کر رہے ہیں۔وہ جن کو جماعت احمدیہ سے بعض بدظنیاں پیدا ہو چکی تھیں بعض ان میں سے ضائع ہو گئے لیکن ان کی اولادیں واپس آنے لگی ہیں۔چنانچہ کل کی ڈاک ہی میں بعض ایسے لوگوں کی اولاد کی طرف سے خطوط تھے کہ ہم نے جس شان سے خدا تعالیٰ کی طرف سے احمدیت کی صداقت کے نشانات ظاہر ہوتے دیکھے ہیں اب ہماری آپ سے یہ درخواست ہے کہ ہمارے والدین کے لئے دعائیں کریں، ہمارے بچوں کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی بھی آنکھیں کھولے اور جس صداقت کی راہ سے وہ بھٹک چکے ہیں انہیں وا پس اس میں لے آئے۔اس سلسلہ میں کچھ سوالات بھی موصول ہوتے رہتے ہیں معلوم ہوتا ہے بعض باتوں میں ابہام ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ خطبہ میں ان سوالات کا ذکر کر کے ان کے جوابات دیئے جائیں کیونکہ ہر شخص اپنے دل میں پیدا ہونے والے سوالات یا ابہامات کا ذکر خط کے ذریعے نہیں کرسکتا اور ایک یا دو اشخاص کو جواب لکھنے سے باقی سب کے دل مطمئن نہیں ہو سکتے۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ یہ چند جو سوالات عموماً دلوں میں پیدا ہو رہے ہیں اور بعض ابہامات ہیں جن کی وجہ سے جماعت بعض دفعہ مباہلہ کے مضمون کو سمجھے بغیر ایک ایسی روش اختیار کرتی ہے جو مباہلہ کے مضمون کے مطابق نہیں ہے۔ان دونوں معاملات کو خوب کھول دوں تا کہ اس کی روشنی میں پھر بقیہ وقت ہم ابتہال کے ساتھ گزاریں اور دعائیں کرتے ہوئے خدا تعالیٰ سے مزید نشانات کے طالب رہیں۔ایک سوال تو کثرت سے یہ کیا جاتا ہے کہ علماء نے جو بار بار اخبارات میں مختلف وقتوں میں، مختلف ملکوں میں یہ اعلانات شائع کروائے ہیں کہ ہم نے مباہلہ قبول کر لیا ہے۔ان اعلانات کے نتیجے میں دو قسم کے سوال ابھرتے ہیں۔اول یہ ہے کہ ان کا سرخیوں میں یہ لکھ دینا یعنی اخبارات کی سرخیوں میں یہ لکھ دینا کہ ہم نے قبول کر لیا ہے لیکن جب عبارت پڑھی جائے تو اس میں ایسی شرطیں داخل کر دینا کہ جن کے نتیجے میں ان کے لئے راہ فرار باقی رہے یعنی سارے دروازے بند کرنے کی بجائے ایک دروازہ بھاگنے کا کھلا چھوڑ دیتے ہیں تو ان کی کیا صورت ہو گی کیا ان کو خدا تعالیٰ کی تقدیر مباہلہ قبول کرنے والے گروہ میں شامل فرمائے گی یا دوسرے گروہ میں۔اس سلسلہ میں پہلے بھی میں ایک دفعہ ذکر کر چکا ہوں مگر معلوم ہوتا ہے کہ وضاحت پوری نہیں ہوئی کیونکہ ابھی تک اس موضوع کے بعض خط بھی ملتے ہیں اور بعض باہر سے آنے والے ملاقات میں