خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 791
خطبات طاہر جلدے 791 خطبه جمعه ۲۵ /نومبر ۱۹۸۸ء مباہلہ کا حقیقی مفہوم اور طریق کار۔منظور چنیوٹی کی ذلت اور رسوائی کی پیشگوئی ( خطبه جمعه فرموده ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔جماعت احمدیہ کی طرف سے جو معاندین اور مکذبین کے سرداروں کو مباہلہ کا چیلنج دیا گیا تھا اس میں تقریباً ساڑے پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔اس عرصے میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر خیر وشر نے دونوں قسم کے نشانات ظاہر فرمائے۔مباہلہ کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی تقدیر نے جو تعزیری کاروائی کی اور چوٹی کے دشمنوں کو جس رنگ میں پکڑا اس میں سے بعض مظاہر تو سب پر روشن ہیں واقف ہیں سب اور بعض ایسے ہیں جن کے متعلق عالمی طور پر جو خبریں موصول ہورہی ہیں ان کا ریکارڈ جماعت میں تیار کیا جارہا ہے اور انشاء اللہ مباہلہ کے سال کے اختتام پر اسے شائع کیا جائے گا۔کچھ خیر کی خبریں یعنی خدا کی تقدیر خیر کی طرف سے ظاہر ہونے والے جو نشانات ہیں ان کے متعلق ہر ملک میں اللہ تعالیٰ ایسے فضل نازل فرمارہا ہے کہ اس ملک کے لوگ گواہ بنتے چلے جارہے ہیں اور خصوصیت سے پاکستان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے دن بدن جماعت کے حالات پہلے سے بہتر ہوتے چلے جارہے ہیں اور ہر پہلو سے کثرت سے اللہ تعالیٰ رحمتیں اور برکتیں نازل فرمارہا ہے۔چنانچہ مباہلہ سے پہلے کے زمانے اور مباہلہ کے بعد کے زمانے میں آپ ایک نمایاں فرق دیکھیں گے اور یہ فرق اتنا نمایاں ہے کہ اس کے نتیجے میں بعض دسیوں سال کے مرتد واپس جماعت میں آرہے ہیں یعنی ان نشانات کو دیکھ کر اور وہ جن کے تعلق ٹوٹ گئے تھے وہ خط لکھ رہے ہیں اور معافیاں بھی