خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 761
خطبات طاہر جلدے 761 خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۸۸ء نے کہا کتا کیسا یہ تو میری بکری ہے۔اس نے کہا خیر تم بکری سمجھتے رہو لیکن ہے تو یہ کہتا ہی۔اس کے بعد اگلا ٹھگ اگلے کونے پر کھڑا تھا گلی کے۔اس نے اس کو سلام کیا اور ٹھہرا اور اس نے باتیں کرتے کرتے کہا کہ بھئی یہ جو کتا ہے یہ بڑا خطرناک لگ رہا ہے۔مجھے ڈر ہے کہیں نقصان ہی نہ پہنچا دے، کسی بچے کو کاٹ لے۔اس نے پھر کہا تمہیں کیا ہو گیا ہے پاگل ہو گئے ہو یہ تو بکری ہے۔اس نے کہا خیر یہ تو بعد میں پتا لگے گا پاگل کون ہے لیکن ہے یہ کتا ہی۔چنانچہ تین، چار، پانچ ٹھگوں نے جب وہی بات کہی تو اس کا جو اندرونی طور پر بکری کا یقین تھا وہ اٹھتا گیا اور رفتہ رفتہ وہ خود سمجھنے لگ گیا کہ شاید میں ہی پاگل ہوں ہے یہ کتا ہی۔چنانچہ اس نے اگلے ٹھگ کے سپرد کیا کہ لو تم اس کو بھا گو یہاں سے جو کرنا اس کو کرتے رہو۔یہ ایک لطیفہ ہے واقعہ یہ نہیں ہوا ہو گا لیکن رائے عامہ کے دباؤ کے اثر کو ظاہر کرنے کے لئے یہ ایک عمدہ لطیفہ ہے اور واقعاتی دنیا میں جب اس کو منتظم طور پر آپ استعمال کرتے ہیں تو غیر معمولی طاقت پیدا ہوتی ہے اس سے اور بغیر سزا کے، بغیر کسی دوسری سختی کے اس طریق پر سختی سے پابندی عظیم الشان نتائج پیدا کرتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اگر پہلی قوموں نے اس طریق کو اختیار کیا ہوتا تو وہ ہلاک نہ ہوتی۔جتنے انبیاء آئے ہیں ان کی قوموں کی ہلاکت کا راز اس بات میں ہے کہ رفتہ رفتہ انہوں نے بری باتوں سے روکنا چھوڑ دیا اور سچی باتوں کی تاکید کرنی چھوڑ دی۔اب اگر رائے عامہ کا دباؤ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کر سکتا ہے تو آپ اندازہ کریں کہ ایک بچی کو کتنی عظیم قوت دے سکتا ہے۔مومن نے اسے فراڈ کے لئے استعمال نہیں کرنا مومن نے اسے سچائی کی خاطر استعمال کرنا ہے۔پس اس پہلو سے ربوہ کا شہر ہو یا دوسرے ایسے مقامات ہوں جہاں احمدیوں کی کچھ آبادیاں ہیں جہاں اس قسم کی بدیاں دکھائی دیتی ہیں جہاں الگ الگ گھر ہیں لیکن بچوں میں کچھ کمزوریاں نظر آرہی ہیں۔ان سب باتوں کا رائے عامہ سے مقابلہ کریں اور قرآن کے دیئے ہوئے سبق کو استعمال کر کے دیکھیں یہ ایسا نسخہ ہے جو کبھی ضائع نہیں جائے گا، کبھی ناکام ثابت نہیں ہو گا لیکن افسوس ہے کہ قرآن کریم کو بار بار پڑھنے کے باوجود ہم رفتہ رفتہ ان نسخوں سے اس طرح گزر جاتے ہیں کہ گویا یہ موجود ہی نہیں ہیں۔سرسری، اچکتی ہوئی نظر سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور اپنے حالات پر ان کا اطلاق کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔لیکن پھر بھی بعض بیمارا ایسے ہیں جن پر نسخے کارگر نہیں ہوا کرتے۔ان کی بیماری اس حد تک بڑھ چکی ہوتی ہے۔ایسے لوگ پھر نتھر کر سامنے آجاتے ہیں وہاں پھر عمل جراحی بھی ہے جس کا قرآن کریم نے خود ذکر فرمایا مگر وہ پھر