خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 760
خطبات طاہر جلدے 760 خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۸۸ء نصیحت کی جائے ان کی برائیاں ان پر کھولی جائیں۔ان کو بتایا جائے کہ تم ان حالات میں بالکل غلط سمت میں جارہے ہو۔خدا کی تقدیر کسی اور سمت میں جماعت کو لے کر جارہی ہے اور تم اس طرف پیٹھ دکھا کر دوسری سمت میں حرکت کر رہے ہو یہ مناسب نہیں ہے۔ان لوگوں کو تلاش کیا جائے جن کا ان پر اثر ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ ایسے لوگوں پر دباؤ بڑھایا جائے پھر اس دباؤ کو نسبتاً عام کیا جائے اور رائے عامہ کو منظم کر کے اس کے ذریعے اس دباؤ کو بڑھایا جائے۔جب میں یہ کہتا ہوں تو یہ مراد نہیں کہ دنیا میں جو رائے عامہ کو استعمال کرنے کا طریق ہے جماعت وہ استعمال کرے۔دنیا میں Picketing ہوتیں ہیں، رائے عامہ کو ابھار کر پتھراؤ کئے جاتے ہیں، گالی گلوچ دی جاتی ہے ہر گز نعوذ باللہ من ذالک میرے ذہن میں رائے عامہ کے دباؤ سے یہ نقشہ نہیں ہے بلکہ رائے عامہ کے دباؤ سے میری مراد وہ ہے جو قرآن کریم نے رائے عامہ کا دباؤ ہمیں سکھایا ہے۔وہ یہ ہے کہ برائی سے روکو اور نیکیوں کی تعلیم دو اور ہر سوسائٹی کا فرداس بات میں ملوث ہو جائے ، اس بات پر عمل پیرا ہو جائے۔یہ اتنا بڑا دباؤ ہے رائے عامہ کا کہ پکٹوں (Pickets ) اور دوسرے دباؤ کی نسبت جو ہمیشہ جاری نہیں رہا کرتے یہ دباؤ بہت زیادہ غیر معمولی اثر دکھا سکتا ہے اگر با قاعدہ طریق پر اسے استعمال کیا جائے۔ایک شخص ایک حرکت کر رہا ہے دوسرا اس سے آنکھیں بند کر کے گزر جاتا ہے ایسے شخص کو اس بدی کی حرکت کو آئندہ بڑھانے کی جرات ملتی چلی جاتی ہے۔ایک شخص ایسا ہے جو بری حرکت کرتا ہے اور کوئی ایک آدمی اس کو کہ دیتا ہے کہ ایسانہ کرو تو اس کے دل میں کچھ تھوڑی سی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ، کچھ تر در پیدا ہوتا ہے۔پھر کوئی نہیں کہتا تو آگے چل پڑتا ہے۔لیکن ایسا شخص جس کو ہر قدم پر یہ کہا جائے کہ تو یہ نا مناسب فعل کر رہے ہو اور ایک کے بعد دوسرا کہتا چلا جائے اس سے اتناغیر معمولی دباؤ نفسیاتی لحاظ سے اس شخص پر پڑ جا تا ہے کہ اس میں طاقت نہیں رہتی کہ اپنی بدی پر قائم رہے۔یہ وہ قرآنی رائے عامہ ہے جو میرے ذہن میں ہے جس کا دباؤ آپ کو ڈالنا چاہئے اور اس پہلو سے بعض دفعہ اس نقطے کو غیروں نے بھی استعمال کیا ہے۔چنانچہ ایک ٹھگوں کی کہانی مشہور ہے کہ ایک شخص اپنی بکری لے کر جارہا تھا سادہ سادیہاتی اور ٹھگوں کے ایک ٹولے کو خیال آیا کہ اس سے بکری ہتھیانی چاہئے۔تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر باتیں شروع کر دی اس کو کہا کہ تمہارا کتا جو تم نے پکڑا ہوا ہے بدصورت سا ہے اور یہ کوئی خطر ناک سا لگتا ہے ممکن ہے یہ پاگل ہو کر کاٹ ہی لے تم کو کسی دن۔اس