خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 753 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 753

خطبات طاہر جلدے 753 خطبه جمعه ۴ /نومبر ۱۹۸۸ء قدم بڑھانے والوں میں ڈنمارک اور ناروے ہیں۔انہوں نے اپنی توفیق کے مطابق وعدے بھی بڑھائے اور وصولی سو فیصد سے زیادہ کی ہے۔یہاں وصولی بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سارا سال باہر سے کچھ اور لوگ آکر جماعت میں شامل ہوتے رہے ہیں اور وہ نئے وعدوں میں شامل ہوتے رہے جسکا مطلب یہ ہے کہ جماعت نے بڑی مستعدی سے اس بات پر نظر رکھی ہے کہ جہاں کہیں جماعت میں اضافہ ہوا ہے وہاں اس کے ساتھ رابطہ کر کے اس کو چندوں کے نظام میں بھی شامل کیا جائے۔بہر حال یہ ایک اعزاز ہے ان دونوں جماعتوں کا۔ساؤتھ افریقہ کو بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اعزاز ہے کہ وعدوں سے زیادہ وصولی ہوئی۔ایران کو بھی یہ اعزاز ہے لیکن ایک پہلو سے ان سب سے ایران فوقیت لے جاتا ہے۔ایران میں آپ جانتے ہیں کہ حالات پچھلے چند سال سے بہت ہی زیادہ مخدوش تھے اور گزشتہ سال تو جب شہروں پر بمباری ہونی شروع ہوئی تو اس قدر افرا تفری کا عالم تھا کہ بہت سے ایرانی بھی وہ شہر چھوڑ گئے اور دیہاتوں میں منتقل ہوئے اور بہت سے باہر سے آکر بسنے والے احمدی ایران ہی چھوڑ کر واپس چلے گئے۔اس پہلو سے ان کے سیکرٹری مال صاحب کو بہت تشویش تھی کہ یہ نہ ہو کہ ہم وعدہ بھی پورا نہ کر سکیں لیکن وہ خدا کے فضل سے ہمت والے ہیں دعا بھی کرتے رہے دعاؤں کی یاد دہانی بھی کراتے رہے اور محنت بھی بہت کی۔چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک لاکھ اکتیس ہزار (1,31,000) ریال کے وعدہ کے مقابل پر اس وقت تک کی اطلاع کے مطابق ایک لاکھ ستاون ہزار چھ سو ساٹھ (1,57,660) ریال وصول کر چکے ہیں۔جو اس چھوٹی سی جماعت کے لحاظ سے خدا کے فضل سے بہت ہی قابل قدر قربانی ہے۔بحالی کھانہ جات میں جو خاص طور پر کام ہوا ہے ان باتوں کو محوظ رکھتے ہوئے ان کی روشنی میں کہہ رہا ہوں ویسے تو خاص طور پر کوئی کام نہیں ہوا مگر نسبت کے لحاظ سے جو خاص طور پر کام ہوا ہے پاکستان میں دو سو چونتیس کھاتے بحال کئے گئے ہیں اور بیرونی دنیا میں صرف کینیڈا کو یہ اعزاز ہے کہ انہوں نے کھاتے بحال کرنے کی طرف توجہ کی اور پچھپیں کھاتے بحال کئے ہیں۔اس ضمن میں ایک تو یہ طریق ہے کہ مرکز سے جو آپ کو اطلاع ملتی ہے کہ ان ان ناموں کو تلاش کریں اس پر غور کریں اور کوئی کمیٹی بٹھائی جائے جو نسبتا معمر لوگوں کی ہو جو کچھ نہ کچھ پرانے لوگوں کو جانتے ہوں اور مختلف