خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 731
خطبات طاہر جلدے 731 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء باتیں ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود ایک تصنع کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور تصنع کی حالت میں سوچ رہے ہیں۔ان سب لوگوں کی مجبوریوں اور تکلیفوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔وہ تکلیفیں اصل بیماریاں ہیں۔وہ ناداری کی حالتیں اصل بیماریاں ہیں۔ان معاملات میں آپ ان سے ہمدردی نہ رکھیں اور بیچارے اپنے معصومانہ رنگ میں تھوڑا سا بھی اپنے دل کی تسکین کا سامان پیدا کریں تو آپ غیظ و غضب کا شکار ہو جائیں۔یہ ہے اصل بیماری روحانی جو آپ کو لاحق ہے اس لئے سب سے پہلے تو اصلاح کرنے والوں کو اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہئے۔ایک دفعہ مجھے یاد ہے ربوہ میں میں نے اپنی مجلس عاملہ کو کہا انصار اللہ میں تھا یا خدام الاحمدیہ میں، غالبا انصار اللہ کی بات ہے۔میں نے ان سے کہا کہ بہت سارے لڑکے ہیں بیچارے جو آوارگی کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ان کے متعلق روز شکایتیں کرتے ہیں تو کیوں نہ ہم یوں کریں کہ اپنے میں سے ہم اپنی ذمہ داری یہ کر لیں کہ ہم میں سے ہر ایک ایک یا دو یا یا تین کو خصوصیت کے ساتھ اپنا دوست بنانے کی کوشش کرے گا۔ان سے وہ تعلق رکھے گا، ان کے مسائل سنے گا، ان کے دکھوں کو اپنانے کی کوشش کرے گا، اپنا سکھ ان کے ساتھ بانٹنے کی کوشش کرے گا اور دیکھیں تو سہی کہ پھر کیا نظر آتا ہے۔چنانچہ ہم میں سے جس نے بھی اس نصیحت پر عمل کیا اس کی اپنی حالت بدل گئی۔بعض نے مجھے بتایا کہ بڑے دردناک حالات ہیں۔ہم جب اس کے ساتھ بیٹھے چائے پہ بلا یا اول تو وہ حیران رہ گئے کہ ہمارے تو لوگ منہ پر تھو کا کرتے تھے کہ یہ کون خبیث انسان ہے اور یہ اچھا بھلا معزز شریف آدمی یہ اپنے گھر چائے پر بلا رہا ہے۔کہتے ہیں اسی احسان کے سلوک نے اس کی حالت بدلی ہے۔پھر جب اس کے حالات معلوم کئے تو پتا لگا یہ بہنوں کا حال ہے، یہ فلاں بھائیوں کا حال ہے، ماں باپ کی اس طرح ناچاقی ہے، یہ گھر میں غربت کا ماحول ہے، یہ تنگیاں ہیں۔تو بجائے اس کے کہ ایسے شخص سے وہ نفرت کرتے ان کے لئے ان کے دل میں ہمدردی پیدا ہوئی ،محبت پیدا ہوئی ان کے لئے کئی ایسے اقدامات کا موقع ملا جو اپنے کمزور بھائی کے لئے ایک نسبتا متمول بھائی کیا کرتا ہے۔حسب توفیق انکی خدمت کی توفیق ملی ان کو اور بعض ایسے نوجوان تھے جن کے متعلق میرے رپورٹیں یہ تھیں کہ یہ اتنے گندے ہو چکے ہیں کہ اس لائق نہیں کہ ان کور بوہ میں ٹھہر نے دیا جائے۔ان کے اندر سے بڑے بڑے پیارے نو جوان پیدا ہونے شروع ہو گئے۔