خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 720 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 720

خطبات طاہر جلدے 720 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء برائی کے طور پر نہیں دیکھتا۔مثلاً جھوٹ ہے۔ابھی تک اس معاشرے میں جھوٹ کے خلاف ایک نفرت موجود ہے اور جھوٹ بالعموم اس معاملے میں نہیں بولا جاتا۔تو تیسری دنیا کے ممالک میں جن میں بدقسمتی سے ہندوستان اور پاکستان بھی شامل ہیں جھوٹ ایک روزمرہ کی عادت بن چکا ہے۔ایک ایسی روز مرہ کی عادت جس کو کوئی نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔گویا کہ ایک معاشرے کا طبعی حصہ بن چکا ہے۔اس کے برعکس بعض ایسی برائیاں ہیں جو یہاں چونکہ اس کثرت سے پیدا ہو چکی ہیں اور بہت آگے بڑھ گئی ہیں کہ ان کو اب برائیاں سمجھا نہیں جاتا، جنسی بے راہ روی ہے اور مرد اور عورت کا بے تکلف اور بے روک ٹوک اختلاط ہے۔اس سے ملتی جلتی اس سے تعلق رکھنے والی اور بہت سی باتیں ہیں، شراب نوشی ہے۔یہ سارے امور ایسے ہیں جو اس معاشرے میں جو مغرب کا معاشرہ کہلاتا ہے اس میں یہ باتیں نہ برائی سمجھی جاتی ہیں نہ ان کے خلاف کسی تحریک کی ضرورت پیش آتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ برائیاں بڑی دیر سے اس معاشرے میں قائم ہو کر آگے بچے دے چکی ہیں اور ان برائیوں کے بچے ان برائیوں سے بہت زیادہ خوفناک صورتیں اختیار کر چکے ہیں۔اس لئے ان کو وہ انتہائی صورت برائی کے طور پر دکھائی دیتی ہے جو ان برائیوں کی آخری شکلیں ہیں۔لیکن ہمارے معاشرے میں یہ چیزیں ابھی نفوذ پکڑ رہی ہیں۔اس لئے ابھی تک باوجود یکہ اب حالت بعض علاقوں میں بہت خراب ہو چکی ہے پھر بھی یہ برائیاں برائیاں ہی سمجھی جاتی ہیں۔سب سے اہم بات اس سلسلہ میں یہ بتانے والی ہے کہ جماعت احمدیہ کو ان برائیوں کے انسداد کے لئے قائم کیا گیا ہے اور جب تک ہم اس معاملے میں ایک جارحانہ رویہ اختیار نہ کریں ہم اپنے آپ کو ان برائیوں سے بچا نہیں سکتے۔جارحانہ رویہ اختیار کرنے کے متعلق یعنی اس سے پہلے ایک دو سال قبل بعض خطبوں میں جماعت کو نصیحت کی تھی کہ برائیوں کے خلاف جہاد صرف اندرونی طور پر نہیں ہونا چاہئے بلکہ ماحول کی برائیاں دور کرنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔اگر آپ ماحول کی برائیوں سے غافل ہو جائیں اور یہ سمجھیں کہ غیر ان بیماریوں میں مبتلا ہیں تو یہ طریق عمل خود کشی کے مترادف ہوگا۔جب تک ہم اس نظر سے معاشرے کی برائیوں کو نہ دیکھیں کہ یہ بدیاں دور کرنا ہمارا کام ہے خواہ اپنوں میں ہو یا غیروں میں ہیں ہم اس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ ہم نے برائیوں کو دور کرنا ہے اس وقت تک ان بدیوں سے ہم خود بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔