خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 712
خطبات طاہر جلدے 712 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء کے سر اٹھانے پر ہمیں علاج کرنا پڑے گا اور زیادہ سنجیدگی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا۔کئی قسم کے مالی بے ضابطگیاں کرنے والے لوگ ہیں ان کے اندر ایک بڑی تعداد ہے جو شروع میں بد دیانت نہیں ہوتے۔اس لئے وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ جی ! ہم نے تو قرض لیا ہے، ہم نے تو بینک سے کسی کی ضمانت پر اتنے پیسے لئے ہیں اور ہم تجارت کرنا چاہتے ہیں اس میں کوئی بددیانتی نہیں لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں تو بددیانتی کا بیج اس لین دین میں موجود ہوتا ہے یعنی باشعور طور پر وہ بد دیانت نہیں بنے ہوئے ہوتے لیکن ایک ایسا قدم اٹھا چکے ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں بھاری امکان اس بات کا پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ بددیانت ہو جائیں گے۔مثلاً ایک شخص اگر اتنا قرضہ لے لیتا ہے کہ اس کی ساری جائیداد بھی بک جائے تو وہ قرضہ ادا نہ ہو سکے اور تجارت میں اونچ نیچ ہوتے ہیں۔بعض ایسی لہریں آتی ہیں عالمی تجارت میں کہ اس کے نتیجہ میں چھوٹے موٹے تاجر کے تو بچنے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ابھی پچھلے دنوں انگلستان میں آپ لوگوں نے نظارہ دیکھا تھا جب عالمی تجارتی بحران پیدا ہوا تو کچھ بددیانت بھی تھے جو مارے گئے لیکن کچھ نیک نیت سے پیسے لینے والے تھے جو اس قابل نہ رہے کہ جن سے پیسے انہوں نے لئے تھے ان کو واپس ادا کر سکیں مگر وہ پیسے اتنے تھے کہ ان کی تو فیق سے بڑھ کر تھے۔یہ میں بنیادی بات ہے جو آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اگر آپ کے پاس اتنی جائیداد موجود ہے کہ اگر خدانخواستہ نقصان ہو تو آپ اس جائیداد کو بیچ کر قرضے اتارسکیں۔اگر آپ کے اندر اتنا اخلاقی سرمایہ موجود ہے اور ایسی جرات ہے آپ کے اندر ایمانی کہ آپ یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہر قیمت پر میں اپنے ایمان کو داغدار نہیں ہونے دوں گا اور اگر مجھے روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرنا پڑے اور مزدوری کر کے گزارہ کرنا پڑے تب بھی میں اپنے عہدوں کی پابندی کروں گا اور جس شخص سے میں نے قرضے لئے ہیں اپنی جائیداد بیچ کر اس کو دے دوں گا تو ایسا شخص بد دیانت نہیں ہے نہ ایسا شخص بددیانت ہو سکتا ہے۔دنیا کے حالات جس طرح بھی کروٹ لیں، جس قسم کے مالی بحران پیدا ہوں وہ محفوظ مقام پر کھڑا ہے۔الا ما شاء اللہ کوئی ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ اس بیچارے کی جائیداد بھی اتنی گر جائے کہ وہ نہ دے سکے تو یہ وہ شخص ہیں جن کے اوپر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حرف نہیں اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پھر ایسے مخلص لوگوں کی خود حفاظت فرماتی ہے۔