خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 711 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 711

خطبات طاہر جلدے 711 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء مالی پہلو سے مجھے اطلاعیں ملتی ہیں کہ لین دین کے معاملہ میں ابھی تک احمدیوں کا معیار توقع سے گرا ہوا ہے اور بعض جگہ اتنا گرا ہوا ہے کہ بالا رادہ دھوکا دینے والے بھی احمدیت کے اندر موجود ہیں۔مالی بے راہروی کئی طرح سے پھوٹتی ہے۔اس کے عناصر اس کی جو موجبات ہیں ان پر نظر رکھنی ضروری ہے۔نظام جماعت کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ یہ انتظار نہ کیا کریں کہ کوئی بیماری بڑھ کر اس مقام تک پہنچ جائے کہ جہاں آپریشن ضروری ہو جاتا ہے اور پھر وہاں ہاتھ ڈالیں نظام جماعت کا کام ہے Preventive Medicine کو اختیار کرنا یعنی انسدادی تدابیر صحت کے معاملے میں جہاں بھی خطرہ دیکھیں کوئی وبا پھوٹ رہی ہے، کوئی بیماری راہ پکڑ رہی ہے صحت مند جسموں میں اس وقت اس کو جسموں سے اکھیڑ کر پھینکیں اور جسموں کی حفاظت کا انتظام کریں۔یہ ہے اصل کام نظام جماعت کا اور یہ بیماریاں ایسی ہیں جو اپنے آثار کے ذریعے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔قضائی معاملہ بننے تک بہت سی منازل باقی ہوتی ہیں۔یعنی ایسی مالی بے راہروی جو عدالتوں تک پہنچ جائے اور نظام جماعت میں قضاء کے دروازے کھٹکھٹانے لگے اس کو پنپ کر جوان ہونے اور اس مقام تک پہنچے کے لئے وقت چاہئے لیکن اس سے پہلے بھی نظر آ رہی ہوتی ہے۔نوجوانوں کے یا دوسروں کے طور طریق ، لوگوں کا رہن سہن یہ سب بتا رہا ہوتا ہے کہ کسی کے گھر میں رشوت داخل ہورہی ہے، کسی کے گھر میں غصب داخل ہو گیا ہے، کوئی لوگوں سے قرضے مانگتا ہے اور واپس نہیں کرتا، کوئی سودی تجارتیں چمکانے کی کوشش کرتا ہے جبکہ اس کے پلے کچھ بھی نہیں۔اگر تجارت میں ادنیٰ بھی بحران کارجحان پیدا ہو تو اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ پھر کبھی ساری عمر بینکوں کے قرضے اتار سکے۔یہ ساری بیماریاں ایسی ہیں جو ابھی اس منزل پر نہیں پہنچی کہ عدالتوں تک پہنچیں لیکن نظر آنے کی منزل تک پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ہر جماعت کے نظام کا فرض ہے کہ ایسے لوگوں پر نگاہ رکھے اور ان کی نصیحت کا انتظام کرے اور اگر کوئی ایسی حرکتوں سے بعض نہیں آتا جس سے دوسرے کے مال خطرے میں ہیں تو پیشتر اس کے کہ یہ جھگڑے قضائی صورتیں اختیار کریں نظام جماعت باقی احمدیوں کی حفاظت کے لئے اور نظام جماعت کی حفاظت کی خاطر ان کے متعلق حرکت میں آنا چاہئے۔ان کو متنبہ کرنا چاہئے کہ ان عادات کے ساتھ تم جماعت احمدیہ کے ممبر نہیں رہ سکتے کیونکہ اب ہم ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہوئے ہیں کہ جب محض بڑی بڑی بیماریوں کے علاج کا سوال نہیں بیماریوں